قرآني·Qurani
اردو

العلم

30 احادیث · #6775–6804

حدیث 6775 — صحيح مسلم 47:1
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُو الأَلْبَابِ‏}‏ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیات ) تلاوت فرمائیں : " وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اس میں سے محکم ( معنی میں واضح ) آیتیں ہیں ، وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہ آیات ہیں ، پھر وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے ، وہ فتنے کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو ان ( آیات قرآنی ) میں سے متشابہ ہیں ۔ ان ( متشابہ آیات ) کا حقیقی معنی اللہ اور ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا جو علم میں راسخ ہیں ۔ وہ ( یہی ) کہتے ہیں : ہم ان ( آیات ) پر ایمان لائے ، سب ( آیتیں ) ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور دانائی رکھنے والوں کے سوا کوئی ( ان سے ) نصیحت حاصل نہیں کرتا ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن میں سے متشابہ ( آیات ) کے پیچھے پڑتے ہیں ، تو یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ( سابقہ آیات میں ) ذکر کیا ہے ، لہذا ان سے بچ کر رہو ۔
حدیث 6776 — صحيح مسلم 47:2
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا - قَالَ - فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلاَفِهِمْ فِي الْكِتَابِ ‏"‏ ‏.‏
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ابوعمران جونی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عبداللہ بن رباح انصاری نے میری طرف لکھ بھیجا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک روز دن چڑھے ( مسجد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں ( ایک دوسرے سے ) اختلاف کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ہمارے سامنے تشریف لائے ۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ ( صاف ) پہچانا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا : " جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کرنے سے ہلاک ہو گئے ۔
حدیث 6777 — صحيح مسلم 47:3
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا ‏"‏ ‏.‏
ابو قُدامہ حارث بن عبید نے ابوعمران سے ، انہوں نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس وقت تک قرآن پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس پر ایک دوسرے کے ساتھ موافقت کرتے رہیں ( قرآن کے معانی تمہارے دل پر واضح ہوتے جا رہے ہوں ) جب تم اس میں اختلاف کرنے لگو تو اٹھ جاؤ ۔
حدیث 6778 — صحيح مسلم 47:4
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدَبٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا ‏"‏ ‏.‏
ہمام نے کہا : ہمیں ابوعمران نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس پر ایک دوسرے کے ساتھ موافقت اور مطابقت کرتے رہیں ، چنانچہ جب تمہارا اختلاف شروع ہو جائے تو اٹھ جاؤ ۔
حدیث 6779 — صحيح مسلم 47:5
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْكُوفَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ‏.‏
ابان نے کہا : ہمیں ابوعمران نے حدیث سنائی ، کہا : ہم کوفہ میں ( رہنے والے ) نوجوان لڑکے تھے جب حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے ہمیں ( نصیحت کرتے ہوئے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس وقت تک ) قرآن پڑھو ۔ " جیسے ان دونوں ( ابوقدامہ حارث بن عبید اور ہمام ) کی حدیث ہے ۔
حدیث 6780 — صحيح مسلم 47:6
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑھ کر بغض کے قابل وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو ۔
حدیث 6781 — صحيح مسلم 47:7
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لاَتَّبَعْتُمُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ ‏"‏ فَمَنْ ‏"‏ ‏.‏
حفص بن میسرہ نے کہا : مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ضرور ان لوگوں کے طریقوں پر بالشت بر بالشت اور ہاتھ بر ہاتھ چلتے جاؤ گے جو تم سے پہلے تھے ( بعینہ ان کے طریقے اختیار کرو گے ، ان سے ذرہ برابر آگے پیچھے نہ ہو گے ) حتی کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے تو تم بھی ان کے پیچھے گھسو گے ۔ " ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا یہود اور نصاریٰ ( کے پیچھے چلیں گے؟ ) آپ نے فرمایا : " تو ( اور ) کن کے؟
حدیث 6782 — صحيح مسلم 47:8
وَحَدَّثَنَا عِدَّةٌ، مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، - وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
مجھے میرے بہت سے ساتھیوں نے سعید بن ابی مریم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوغسان محمد بن مطرف نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
حدیث 6783 — صحيح مسلم 47:9
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏.‏ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ ‏.‏
محمد بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوغسان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی ، پھر اسی طرح حدیث سنائی ( جس طرح حفص بن میسرہ کی روایت ہے ۔)
حدیث 6784 — صحيح مسلم 47:10
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا ‏.‏
احنف بن قیس نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غلو میں گہرے اترنے والے ہلاک ہو گئے ۔ " آپ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔