قرآني·Qurani
اردو

الفتن وأشراط الساعة

182 احادیث · #7235–7416

حدیث 7345 — صحيح مسلم 54:109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ دُخٌّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُ فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپائی ہے ۔ " وہ دُخَ ہے ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " دور دفع ہوجا!تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکےگا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے چھوڑ دو ، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔
حدیث 7346 — صحيح مسلم 54:110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ مَا تَرَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ وَمَا تَرَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏
حریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس ( ابن صیاد ) سے ملاقات ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا؛ " میں اللہ پر ، اس کےفرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں ، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو ، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کویا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو د یکھتا ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کا معاملہ خود ) اس کے سامنے گڈ مڈ کردیاگیا ہے ۔ اسے چھوڑ د و ۔
حدیث 7347 — صحيح مسلم 54:111
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَ صَائِدٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ ‏.‏
معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابن صائد سے ملاقات ہوئی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور ابن صائد ( دوسرے ) لڑکوں کے ساتھ تھا ، پھر جریری کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حدیث 7348 — صحيح مسلم 54:112
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ لِي أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ يُولَدُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَقَدْ وُلِدَ لِي ‏.‏ أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلاَ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ ‏.‏ قَالَ فَلَبَسَنِي ‏.‏
داود نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مکہ کی طرف جاتے ہوئے ( راستے میں ) میرا اور ابن صیاد کاساتھ ہوگیا ۔ اس نے مجھ سے کہا : میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سناتھا : " اس کے بچے نہیں ہوں گے " ؟کہا : میں نے کہا : کیوں نہیں ! ( سناتھا ۔ ) اس نے کہا : میرے بچے ہوئے ہیں ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا : " وہ ( دجال ) مدینہ میں داخل ہوگا اور نہ مکہ میں " ؟میں نے کہا : کیوں نہیں!اس نے کہا : میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا ۔ اور اب مکہ کی طرف جارہا ہوں ۔ انھوں نے کہا : پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا : دیکھیں !اللہ کی قسم!میں اس ( دجال ) کی جائے پیدائش ، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں ۔ ( اس طرح ) اس نے ( اپنی حیثیت کے بارے میں ) مجھے الجھا دیا ۔
حدیث 7349 — صحيح مسلم 54:113
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ لِيَ ابْنُ صَائِدٍ وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ أَسْلَمْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ يُولَدُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ وُلِدَ لِي ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ حَجَجْتُ ‏.‏ قَالَ فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ الآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ ‏.‏ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَىَّ مَا كَرِهْتُ ‏.‏
معتمر کے والد ( سلیمان ) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، کہا : مجھ سے ابن صائد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی ۔ ( اس نے کہا : ) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں ، مکر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیامعاملہ ہے ؟ "" کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا : "" دجال یہودی ہوگا ۔ "" اور میں مسلمان ہوچکا ہوں ۔ کہا : "" وہ لاولد ہوگا ۔ "" جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" اللہ نے مکہ ( میں داخلہ ) اس پر حرام کردیا ہے ۔ "" اور میں حج کرچکا ہوں ۔ ( حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ ( ابن صائد ) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی ، کہا : پھر وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں ۔ کہااس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات ا چھی لگےگی کہ تمھی وہ ( دجال ) آدمی ہو؟اس نے کہا ، اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا ۔
حدیث 7350 — صحيح مسلم 54:114
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ - قَالَ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ - قَالَ - وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ - قَالَ - فَفَعَلَ - قَالَ - فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ فَقَالَ اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ ‏.‏ مَا بِي إِلاَّ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ - أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ - فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلاً فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِيَ النَّاسُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ عَقِيمٌ لاَ يُولَدُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَوَ لَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلاَ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الآنَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ‏.‏
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا ۔ ایک منزل میں ہم اترے ، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے ۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے ( کہ دجال ہے ) ابن صائد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا ( مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی ) میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے ۔ اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں ۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی ۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا ۔ ابن صائد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں ۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے ۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے ) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں ( اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں ) کہ پھر کہنے لگا البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : باقی سارا دن تیرے لئے تباہی اور ہلاکت ہو! ( تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟)
حدیث 7351 — صحيح مسلم 54:115
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ ‏"‏ مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقْتَ ‏"‏ ‏.‏
ابومسلمہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا : " جنت کی مٹی کیسی ہے؟ " اس نے کہا : اے ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !باریک سفید ، کستوری ( جیسی ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نے سچ کہا ۔
حدیث 7352 — صحيح مسلم 54:116
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ ‏ "‏ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ ‏"‏ ‏.‏
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی مٹی کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " باریک سفید ، خالص کستوری ( کی طرح ) ہے ۔
حدیث 7353 — صحيح مسلم 54:117
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
محمد بن منکدرسے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ، وہ اللہ کی قسم کھاکر کہہ رہے تھے کہ ابن صائد دجال ہے ۔ میں نے کہا : آپ ( اس بات پر ) اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات پر قسم کھاتے ہوئے دیکھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا تھا ۔
حدیث 7354 — صحيح مسلم #7354
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَيَّادٍ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَاذَا تَرَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ ‏"‏ هُوَ الدُّخُّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ - وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ - هَذَا مُحَمَّدٌ ‏.‏ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لأُنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ ‏"‏ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمُوتَ ‏"‏ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے ر وایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انھیں بتایا ، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم امییّن کے رسول ہو ( امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو ) ۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا؟ ( اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا ) اور فرمایا کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کام گڑبڑ ہو گیا ( یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات دل میں چھپائی ہے ۔ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دخ ( دھواں ) ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذلیل ہو ، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑئیے میں اس کی گردن مارتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ( یعنی دجال ) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ ( دجال ) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔