صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہا : مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ دجال کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی ۔ اس میں آپ نے ہمارے سامنے جو بیان کیا اس میں ( یہ بھی ) تھا کہ آپ نے فرمایا : " وہ آئے گا اس پرمدینہ کے راستے حرام کردیےگئے ہوں گے ۔ وہ مدینہ سے متصل ایک نرم شوریلی زمین تک پہنچے گا اس کے پاس ایک آدمی ( مدینہ سے ) نکل کر جائے گا ۔ جولوگوں میں سے بہترین یا بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا اور اس سے کہے گا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو میں ہمیں بتایا تھا ۔ تودجال ( اپنے ساتھ موجود لوگوں سے ) کہے ) گا تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کردوں تو کیا اس معاملے میں تمھیں کوئی شک ( باقی ) رہے گا؟وہ کہیں گے نہیں ۔ وہ اس شخص کو قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کردے گا ۔ جب وہ اس شخص کو زندہ کرے گاتو وہ اس سے کہے گا ۔ اللہ کی قسم!تمھارے بارے میں مجھے اب سے پہلے اس سے زیادہ بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی ۔ فرمایا : دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے اس شخص پر تسلط حاصل نہیں ہو سکے گا ۔
ابو وذاک نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دجال نکلےگا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گااسے اسلحہ بردارمحافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردارمحافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے ۔ کہا : جانا چاہتے ہو؟وہ کہے گا ۔ میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو ( اب ) نمودار ہوا ہے وہ اس سے کہیں گے ۔ کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے ؟وہ کہے گا ، ہمارے رب ( کی ربوبیت اور صفات ) میں کوئی پوشیدگی نہیں وہ ( اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے ) کہیں گے ۔ اس کو قتل کردو ۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے ۔ کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس ( کے سامنے پیش کرنے ) سےپہلے کسی کو قتل نہ کرو ۔ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے ۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا لوگو!یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا ۔ فرمایا : تودجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس ( کے اعضاء ) کو کھینچ کر باندھ دیا جا ئے گا پھر وہ کہے گا ۔ اسے پکڑواور اس کاسر اور منہ توڑ دو ، تو ( مارمارکر ) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کردی جائے گی ۔ فرمایا : پھر وہ ( دجال ) کہے گا ۔ کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤگے؟فرمایا : " تو وہ کہے گا تم جھوٹے ( بناوٹی ) مسیح ہو ۔ فرمایا : " پھر اس کے بارے میں حکم دیا جا ئے گا ۔ تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا ۔ یہاں تک کے اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے ۔ فرمایا : " پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا ۔ پھر اس سےکہے گا ۔ کھڑے ہوجاؤچنانچہ وہ سید ھا کھڑا ہو جا ئے گا ۔ فرمایا : وہ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟وہ کہے گا ۔ ( اس سب کچھ سے ) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا ۔ فرمایا : پھر وہ شخص کہے گا لوگو!یہ ( دجال ) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا ۔ فرمایا : دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ( کاحصہ ) تانبے کا بنایا جا ئے گا وہ کسی طریقے سے ( اسے ذبح ) نہ کر سکے گا ۔ فرمایا ۔ تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراسے پھینکےگا ۔ لوگ سمجھیں گےاس ( دجال ) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ ( اصل میں وہ ) جنت میں ڈال دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہادت میں رب العالمین کے سامنے یہ شخص سب لوگوں سے بڑا ہے ۔
ابراہیم بن حمید رؤاسی نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نےقیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ۔ آپ نے فرمایا : " اس ( کے حوالے ) سے تمھیں کیا بات اتنا تھکا رہی ہے؟ وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ کہا : میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ کہتے ہیں اس کے ہمراہ کھانے ( کےڈھیر ) اور ( پانی کے ) دریا ہوں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک وہ اس سے حقیر تر ہے ( کہ ایسی چیزوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کر سکے ،)
ہشیم نے اسماعیل سے انھوں نے قیس سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’تمھارے سوال کا ( سبب ) کیا ہے ؟ " کہا : میں نے عرض کی وہ ( لوگ ) کہتے ہیں اس کے ہمراہ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کا دریاہوگافرمایا : " وہ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیرہے ۔
وکیع ، جریر ، سفیان ، یزید بن ہارون اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے بیٹے
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوببن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں ۔ کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی انھوں نے سبحان اللہ ! ۔ یا ۔ ۔ ۔ لاالہ الااللہ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ اس جیسا کوئی کلمہ کہا : ( اورکہنے لگے ) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا ۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے ۔ بیت اللہ کو جلا دیا جا ئےگا ۔ اور یہ ہوگا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن ( فرمائے ) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے ۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے ۔ کہ کوئی سے دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہواچلائے گاتو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا ۔ مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی یہاں تک کہااگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگرمیں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ ( ہوا ) داخل ہو جا ئے گی ۔ یہاں تک کہ اس کی روح قبض کرلے گی ۔ " انھوں نے کہا : یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپ نے فرمایا : " پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے ۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے ۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا : " کیا تم میری بات پر عمل نہیں کروگے؟وہ کہیں گے ۔ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے ۔ ؟وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا وہ اسی حالت میں رہیں گے ان کا رزق اترتا ہوگا ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی پھر صور پھونکا جائے گا ۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا ( گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی ) سب سے پہلا شخص جواسے سنے گاوہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا ۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا ۔ اور دوسرے لوگ بھی گر ( کر مر ) جائیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائےگا ۔ جو ایک پھوار کے مانند ہو گی ۔ یا سائے کی طرح ہو گی ۔ شک کرنے والے نعمان ( بن سالم ) ہیں اس سے انسانوں کے جسم اُگ آئیں گے ۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی ۔ تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے ، ( زندہ ہو جا ئیں گے ) پھر کہا جا ئے گا لوگو! اپنے پروردگارکی طرف آؤ !اور ( فرشتوں سے کہا جائے گا ان کولاکھڑا کرو ان سے سوال پوچھے جائیں گے ۔ حکم دیا جا ئےگا ۔ آگ میں بھیجے جانے والوں کو ( اپنی صفوں سے ) باہرنکالو پوچھا جائے گا ۔ کتنوں میں سے ( کتنے؟ ) کہاجائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ انھوں نے کہا : تویہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کردے گا ۔ اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا ( کر دیدار جمال کرایا ) جائے گا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے ایک شخص کو سنا ، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا : آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ( بات پوری ہوجائے ) پر قیامت قائم ہوجائے گی ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں ، میں تو یہ کہاتھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہوگیا ۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہےیا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میری امت میں دجال نمودار ہوگا ۔ "" اور ( اس کے بعد محمد بن جعفر نے ) معاذ کی حدیث کےمانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا : "" کوئی ا یک شخص بھی جس نے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو ، نہیں بچے کا مگر وہ ( ہوگا ) اس کی روح قبض کرلے گی ۔ "" محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اورمیں نے ( کئی بار ) اسے ان کے سامنے دہرایا ۔
حدیث 7383 — صحيح مسلم 54:144
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا " .
محمد بن بشیر نے ابو حیان سے ، انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " نمودار ہونے والی سب سے پہلے نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کانکلنا ہے ۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہوگی ، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہوجائے گی ۔
حدیث 7384 — صحيح مسلم 54:145
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ، يُحَدِّثُ عَنِ الآيَاتِ، أَنَّ أَوَّلَهَا، خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ابو حیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا ، کہا : مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہوگا ، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( تم لوگ یوں سمجھو کہ ) مردان نے کچھ بھی نہیں کہا ( کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔