معمر ، شعیب اور معقل بن عبیداللہ نے زہری سے یونس اور ابن ابی ذئب کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر شعیب اور معقل کی حدیث میں ( مشرکین کی اولاد کی بجائے ) " مشرکین کے چھوٹے بچوں " کے الفاظ ہیں ۔
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں ( تو ان کا انجام کیا ہو گا؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔
حدیث 6765 — صحيح مسلم 46:43
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا فَقَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔
حدیث 6766 — صحيح مسلم 46:44
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ " .
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ طبعا کافر بنایا گیا تھا ، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا ۔
فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا : اس کے لیے خوش خبری ہو ، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اُس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟
وکیع نے طلحہ بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول! اس کے لیے خوش خبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، اس نے کوئی گناہ کیا ، نہ گناہ کرنے کی عمر پائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یا اس کے علاوہ کچھ اور؟ عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا فرمائے ، انہیں اس وقت جنت کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے بھی رہنے والے بنائے ، انہیں اس وقت دوزخ کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے ۔
وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی : اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی زندگیوں ) سے مستفید فرما! ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا ، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں ، سوال کیا ہے ۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی ، مسعر نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : خنزیروں کا بھی ( ذکر کیا گیا کہ وہ ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد ، بندر اور خنزیر اس ( مسخ ہونے کے واقعے ) سے پہلے بھی ہوتے تھے ( جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں ۔)
ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی ( روایت کردہ ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں : " آگ میں دیے جانے والے اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے ( پناہ مانگتی تو بہتر تھا ۔ ) " ( " یا " کی بجائے " اور " ہے ۔)
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ثوری نے علقمہ بن مرثد سے خبر دی ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ( دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی ( کی درازی عمر ) سے مستفید فرما! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہے جو مقرر کی جا چکیں اور قدموں کے ان نشانوں کا جن پر قدم رکھے جا چکے اور ایسے رزقوں کو جو تقسیم کیے جا چکے ۔ نہ ان میں سے کوئی چیز اپنا وقت آنے سے پہلے آ سکتی ہے اور نہ آنے کے بعد مؤخر ہو سکتی ہے ۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم میں دیے جانے والے عذاب اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے بچا لے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا ( فرمایا : ) کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان ( لوگوں ) کی نسل بنائے ( ان کے بچے پیدا کر کے انہیں آگے چلائے ۔ ) اور بلاشبہ بندر اور خنزیر پہلے بھی موجود تھے ۔ "" ( آگے انہی کی نسلیں چلی ہیں ۔)