قرآني·Qurani
اردو

اللباس والزينة

201 احادیث · #5385–5585

حدیث 5455 — صحيح مسلم 37:70
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَنَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثِيَابَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عمربن محمد نے اپنے والد سالم بن عبد اللہ اور نافع سے روایت کی ، انھوں نے نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرما ئے گا ۔
حدیث 5456 — صحيح مسلم 37:71
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، وَجَبَلَةَ بْنِ، سُحَيْمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
محارب بن دثاراور جبلہ بن سحیم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 5457 — صحيح مسلم 37:72
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں حنظلہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس شخص نے تکبر سے کپڑا گھسیٹا اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
حدیث 5458 — صحيح مسلم 37:73
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثِيَابَهُ ‏.‏
اسحق بن سلیمان نے کہا : ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہےتھےاسی کے مانند مگر انھوں نے ( کپڑا گھسیٹا کے بجا ئے ) " کپڑے ( گھسیٹے ) " کہا ۔
حدیث 5459 — صحيح مسلم 37:74
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمَ، بْنَ يَنَّاقَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَانْتَسَبَ لَهُ فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأُذُنَىَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لاَ يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلاَّ الْمَخِيلَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے کہا : میں نے مسلم بن یناق سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انھوں نے اس سے پو چھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ اس نے نسب بتا یا وہ شخص بنو لیث سے تھا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو پہچان لیا اور کہا : میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے ۔ " جس شخص نے اپنی ازار ( کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
حدیث 5460 — صحيح مسلم 37:75
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ - ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ - كُلُّهُمْ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْحَسَنِ وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا ‏ "‏ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ ‏.‏
عبد الملک بن ابی سلیمان ابو یو نس اور ابرا ہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابو یونس کی حدیث میں ہے : ابو الحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے ، " جس نے اپنی ازارگھسیٹی " انھوں نے " اپنا کپڑا " نہیں کہا ۔
حدیث 5461 — صحيح مسلم 37:76
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ، مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ، - قَالَ - وَأَنَا جَالِسٌ، بَيْنَهُمَا أَسَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نافع بن عبد الحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کریں کہا : اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا ( انھوں نے سوال کیا : ) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کو ئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازارگھیسٹتا ہے؟ انھوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا تھا : " قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فر ما ئے گا
حدیث 5462 — صحيح مسلم 37:77
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، وَاقِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ زِدْ ‏"‏ ‏.‏ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَى أَيْنَ فَقَالَ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ ‏.‏
عبد اللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی توآپ نے فرما یا " عبد اللہ ! اپنی چادر اوپر کرلو ۔ " میں نے اپنی چادر اوپر کرلی ۔ آپ نے فر ما یا : " اور زیادہ کر لو " میں نے ااورزیادہ اوپر کی ، پھر میں اس کواوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لو گوں نے عرض کی کہاں تک ( اوپر کرے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفر ما یا : " پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک ۔
حدیث 5463 — صحيح مسلم 37:78
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَأَى، رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُ الأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ وَهُوَ يَقُولُ جَاءَ الأَمِيرُ جَاءَ الأَمِيرُ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا ‏"‏ ‏.‏
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، اور انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہو ئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا : امیر آگئے امیرآگئے ۔ وہ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بحرین کے امیر تھے ۔ ( یہ دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا " جو شخص اتراتے ہو ئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا ۔
حدیث 5464 — صحيح مسلم 37:79
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏
محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی ، ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابن جعفر کی روایت میں ہے : مروان ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا ( قائم مقام ) حاکم بنا یا کرتا تھا ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( حاکم کی غیرحاضر ی میں ) مدینہ کا حاکم بنا یا جا تا تھا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔