حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہؓ نے کہا یارسول اﷲﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اس کو ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لاؤں؟ آپ نے فرمایا بے شک ۔ سعدؓ نے کہا ہرگز نہیں میں تو قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا جلدی اس کا علاج تلوار سے کردوں اس سے پہلے ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں وہ برے غیرت دار ہیں او رمیں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اﷲ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت رکھتا ہے ۔
مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے سعد بن عبادہؓ نے کہا اگر میں اپنی بی بی کے پاس کسی مرد کو دیکھوں تو تلوار سے مار ڈالوں کبھی نہ چھوڑوں ۔ یہ خبر رسول اﷲ ﷺ کو پہنچی آپ نے فرمایا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو قسم اﷲ کی میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اﷲ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت دار ہے ۔ حرام کیا اﷲ نے بے شرمی کی باتوں کو چھپی او رکھلی اسی غیرت کی وجہ سے اور کوئی شخص اﷲ تعالیٰ سے زیادہ غیرت دار نہیں ہے اور اﷲ سے زیادہ کسی شخص کو عذر پسند نہیں ہے ۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا خوشی اور ڈر سناتے ہوئے ( تاکہ بندے سزا سے پہلے اس کی درگاہ میں عذر کرلیں اور توبہ کریں ) ۔ اور کسی شخص کو اﷲ سے زیادہ تعریف پسند نہیں اس لیے اﷲ تعالیٰ نے وعدہ کیا جنت کا ( تاکہ بندے اس کی عبادت اور تعریف کرکے جنت حاصل کرلیں ) ۔
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ایک شخص بنی فزارہ میں سے آیا روسل اﷲ ﷺ کے پاس او رکہا میری جورو کو ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ( تو وہ میرا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں کالا نہیں ہوں ) ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس کہا ہاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیا ہے؟ وہ بولا لال ہے ۔ آپ نے فرمایا ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ اس نے کہا ہاں خاکی بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا ۔
زہری نے ابن عینیہ کی حدیث کی مانند روایت کی اس میں اتنا فرق ہے کہ کہا اے رسول اﷲ ﷺ! میری عورت نے لڑکا سیاہ جنا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کا انکار کروں اور دوسری حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر رسول اﷲ ﷺ نے اس کے انکار کرنے کی اجازت نہ دی ۔
حدیث 3768 — صحيح مسلم 19:26
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّصلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَنَّى هُوَ " . قَالَ لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ " .
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تحقیق ایک اعرابی آیا رسول اﷲ ﷺ کے پاس او رکہا اے رسول اﷲ ﷺ! میری عورت نے کالا بچہ جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں ، تو رسول اﷲ ﷺ نے اس کو فرمایاتیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا ہاں ۔ آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیسا ہے؟ اس نے کہا سرخ ۔ آپ نے پوچھا کہ ان میں کوئی کالا بھی ہے؟ وہ بولا ہاں تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا یہ رنگ کہاں سے آگیا؟ اعرابی بولا کہ اے رسول اﷲ ﷺ کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا تو جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ یہاں بھی کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا ۔
حدیث 3769 — صحيح مسلم 19:27
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں ۔