قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، وکیع اور عبداللہ بن نمیر نے سفیان سے روایت کی ۔ محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبداللہ بن جعفر رَقی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ بن عمر نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی ۔ عبدالرحمٰن بن بشر نے کہا : ہمیں بہز نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، ان سب ( اعمش ، سفیان ، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ ) نے سلمہ بن کہیل سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ حماد بن سلمہ کے سوا ، ان سب کی حدیث میں تین سال ہیں اور ان ( حماد ) کی حدیث میں دو یا تین سال ہیں ۔ سفیان ، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : " اگر کوئی ( تمہارے پاس ) آ کر تمہیں اس کی تعداد ، تھیلی اور بندھن کے بارے میں بتا دے تو وہ اسے دے دو ۔ " وکیع کی روایت میں سفیان نے یہ اضافہ کیا : " ورنہ وہ تمہارے مال کے طریقے پر ہے ۔ " اور ابن نمیر کی روایت میں ہے : " اور اگر نہیں ( آیا ) تو اسے فائدہ اٹھاؤ
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے ( کسی کے ) بھٹکتے ہوئے جانور ( اونٹنی ) کو اپنے پاس رکھ لیا ہے تو وہ ( خود ) بھٹکا ہوا ہے جب تک اس کی تشہیر نہیں کرتا
عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی تم میں سے دوسرے کے جانور کا دودھ نہ دھوئے مگر اس کی اجازت سے۔ کیا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی کوٹھری میں کوئی آئے اور اس کا خزانہ توڑ کر اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن ان کے خزانے ہیں کھانے کو تو کوئی نہ دوھوہے کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے۔ ( مگر جو مرتا ہو مارے بھوک کے وہ بقدر ضرورت کے دوسرے کا کھانا بعیر اجازت کے کھا سکتا ہے۔ لیکن اس پر قیمت لازم ہوگی اور بعض سلف اور محدثین کے نزدیک لازم نہ ہوگی۔ اگر مردار بھی موجود ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ بعضوں کے نزدیک مردار کھالے اور بعضوں کے نزدیک غیر کا کھانا۔)
لیث نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے ابو شریح عدوی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کی ، تو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ، آپ نے فرمایا : " جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کو ، جو پیش کرتا ہے ، اس کو لائق عزت بنائے ۔ " صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! اس کو جو پیش کیا جائے ، وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس کے ایک دن اور ایک رات کا اہتمام اور مہمان نوازی تین دن ہے ، جو اس سے زائد ہے وہ اس پر صدقہ ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے
وکیع نے کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سعید بن ابی سعید مقبری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوشریح خزاعی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہمان نوازی تین دن ہے اور خصوصی اہتمام ایک دن اور ایک رات کا ہے اور کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں ( ہی ) ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے ۔ " صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا؟ آپ نے فرمایا : " وہ اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی میزبانی کر سکے ( تو وہ غلط کام کے ذریعے سے اس کی میزبانی کا انتظام کرے)
ابوبکر حنفی نے کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سعید مقبری نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گفتگو فرمائی ۔ ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں یہ ذکر کیا : " تم میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے ہاں ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں ڈال دے ۔ " اسی کے مانند جس طرح وکیع کی حدیث میں ہے
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں کسی ( اہم کام کے لیے ) روانہ کرتے ہیں ، ہم کچھ لوگوں کے ہاں اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے ، آپ کی رائے کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا : " اگر تم کسی قوم کے ہاں اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں جو مہمان کے لائق ہے تو قبول کر لو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا اتنا حق لے لو جو ان ( کی استطاعت کے مطابق ان ) کے لائق ہو ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، اس اثنا میں ایک آدمی اپنی سواری پر آپ کے پاس آیا ، کہا : پھر وہ اپنی نگاہ دائیں بائیں دوڑانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہو ، وہ اس کے ذریعے سے ایسے شخص کے ساتھ نیکی کرے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد از ضرورت زادِ راہ ہے وہ اس کے ذریعے سے ایسے شخص کی خیرخواہی کرے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے ۔ کہا : آپ نے مال کی بہت سی اقسام کا ذکر کیا جس طرح کیا ، حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ زائد مال پر ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے