قرآني·Qurani
اردو

المساقاة

178 احادیث · #3962–4139

حدیث 4072 — صحيح مسلم 22:111
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ ‏.‏ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلِ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالاَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا
حبیب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابومنہال سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : زید بن ارقم سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : براء سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، پھر دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔
حدیث 4073 — صحيح مسلم 22:112
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا ‏.‏ قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ ‏.‏
عباد بن عوام نے کہا : یحییٰ بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے عوض چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے عوض سونا جیسے چاہیں خریدیں ۔ کہا : اس پر ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اور کہا : دست بدست؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح سنا ہے ۔
حدیث 4074 — صحيح مسلم 22:113
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
یحییٰ بن ابی کثیر نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہیں عبدالرحمان بن ابی بکرہ نے بتایا کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
حدیث 4075 — صحيح مسلم 22:114
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُلَىَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلاَدَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلاَدَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏"‏ ‏.‏
علی بن رباح لخمی نے کہا : میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جبکہ آپ خیبر میں تھے ، ایک ہار لایا گیا ، اس میں نگینے تھے اور سونا تھا اور وہ ان غنائم میں سے تھا جو فروخت کی جا رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کے بارے میں حکم دیا جو ہار میں تھا ، تو اکیلے اسی کو الگ کر دیا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ( جو لین دین کر رہے تھے ) فرمایا : " سونے کے عوض سونا برابر برابر وزن کا ( خریدو اور بیچو ۔)
حدیث 4076 — صحيح مسلم 22:115
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ، أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً بِاثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنِ اثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے ہمیں ابوشجاع سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے ، انہوں نے حنش صنعانی سے اور انہوں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا ، اس میں سونا اور نگینے تھے ۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ مل گئے ، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : " اسے الگ الگ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے ۔
حدیث 4077 — صحيح مسلم 22:116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، يَزِيدَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
ابن مبارک نے سعید بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
حدیث 4078 — صحيح مسلم 22:117
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلاَحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏"‏ ‏.‏
جلاح ابوکثیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حنش صنعانی نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : خیبر کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم یہود کے ساتھ دو یا تین دیناروں کے عوض ایک اوقیہ سونے کی بیع کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے کی بیع نہ کرو مگر برابر برابر وزن کے ساتھ ۔
حدیث 4079 — صحيح مسلم 22:118
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ، وَعَمْرِو، بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلأَصْحَابِي قِلاَدَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ ثُمَّ لاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
عامر بن یحییٰ معافری نے حنش سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : ہم ایک غزوے میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا ، چاندی اور جواہر تھے ۔ میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، چنانچہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اس کا سونا اتار لو اور اسے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو ، پھر برابر برابر کے سوا نہ لو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : " جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ( اس طرح کی بیع میں ) مثل بمثل ( یکساں ) کے سوا ہرگز نہ لے ۔
حدیث 4080 — صحيح مسلم 22:119
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلاَمَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ فَقَالَ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ‏.‏ فَذَهَبَ الْغُلاَمُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ‏.‏ قِيلَ لَهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ ‏.‏
بُسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے گندم کا ایک صاع دے کر اپنا غلام بھیجا اور کہا : اسے بیچ دو ، پھر اس ( کی قیمت ) سے جو خرید لاؤ ۔ غلام گیا اور ( گندم کے صاع کے عوض ) ایک صاع اور صاع سے کچھ زیادہ ( جو ) لے آیا ، جب وہ معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں یہ بات بتائی ، تو حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم نے یہ کام کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس کرو اور مثل بمثل کے سوا کچھ نہ لو ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتے تھا ، آپ فرماتے تھے : " غلے کے عوض غلے کی بیع مثل بمثل ہے ۔ " کہا : ان دنوں ہماری خوراک جَو کی تھی ۔ ان سے کہا گیا : وہ تو اس ( گندم ) کی مثل نہیں ہے ۔ ( یعنی دو الگ جنسیں ہیں ، اس لیے تفاضل جائز ہے ۔ ) انہوں نے کہا : مجھے خدشہ ہے کہ وہ اس کے مشابہ ہو گی ۔
حدیث 4081 — صحيح مسلم 22:120
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلاً بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کو بھیجا اور اسے خیبر کا عامل مقرر کیا ، وہ جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے کر آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ اس نے عرض کی : اللہ کے رسول! واللہ! نہیں ۔ ہم ملی جلی کھجور کے دو صاع کے عوض ( عمدہ کھجور کا ) ایک صاع خریدتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو بلکہ مثل بمثل ( یکساں خریدو بیچو ) یا پھر اسے بیچ دو اور اس کی قیمت سے دوسری قسم خرید لو ، اسی طرح وزن ( کے ذریعے سے لین دین کرنا ہو تو بھی برابر ہونا ضروری ) ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔