قرآني·Qurani
اردو

المساقاة

178 احادیث · #3962–4139

حدیث 3972 — صحيح مسلم 22:11
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، ‏.‏ زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَمَّارٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالاَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، وَفَى رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنِ امْرَأَةِ، زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ رُبَّمَا قَالَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ وَكُلُّهُمْ قَالُوا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ، نیز ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے روایت کی ، اور عمرو ناقد نے کہا : ہمیں عمار بن محمد نے حدیث بیان کی ، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابن فُضیل نے حدیث بیان کی ، ان سب ( حفص ، ابومعاویہ ، عمار اور ابن فضیل ) نے اعمش سے ، انہوں نے ابوسفیان ( واسطی ) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ عمرو ( ناقد ) نے عمار سے روایت کردہ روایت میں اور ابوکریب نے ابومعاویہ سے روایت کردہ اپنی روایت میں کہا : ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ ابن فضیل کی روایت میں ہے : زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے روایت ہے ، ابومعاویہ سے اسحاق کی روایت میں ہے ، انہوں نے کہا : کبھی انہوں نے ( ابومعاویہ ) نے کہا : ام مبشر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور بسا اوقات انہوں نے ( ام مبشر ) نہیں کہا ۔ ان سب نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) عطاء ، اور ابوزبیر اور عمرو بن دینار کی حدیث ( 3968-3971 ) کی طرح ہے
حدیث 3973 — صحيح مسلم 22:12
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان نہیں جو درخت لگائے یا کاشت کاری کرے ، پھر اس سے کوئی پرندہ ، انسان یا چوپایہ کھائے مگر اس کے بدلے میں اس کے لیے صدقہ ہو گا
حدیث 3974 — صحيح مسلم 22:13
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ نَخْلاً لأُمِّ مُبَشِّرٍ - امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مُسْلِمٌ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
ابان بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے نخلستان میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں ، کسی مسلمان نے یا کسی کافر نے؟ " ان لوگوں نے کہا : مسلمان نے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ان سب کی حدیث کی طرح ہے
حدیث 3975 — صحيح مسلم 22:14
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ‏"‏‏.‏ ح. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلاَ يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ‏"‏‏.‏
ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ ابوزبیر نے انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم نے اپنے بھائی کو پھل بیچا ہے ۔ " نیز ابوضمرہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزبیر سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اپنے بھائی کو پھل بیچو اور وہ کسی قدرتی آفات کا شکار ہو جائے تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ وصول کرو ۔ تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس بنا پر وصول کرو گے
حدیث 3976 — صحيح مسلم 22:15
وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حدیث 3977 — صحيح مسلم 22:16
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ ‏.‏ فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ ‏.‏ أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بدلنے تک کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا ۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس کے رنگ بدلنے ( زھو ) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : وہ سرخ ہو جائے اور زرد ہو جائے ، تمہاری کیا رائے ہے اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا ، تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے
حدیث 3978 — صحيح مسلم 22:17
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِيَ قَالُوا وَمَا تُزْهِيَ قَالَ تَحْمَرُّ ‏.‏ فَقَالَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
امام مالک نے حمید الطویل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ پکڑنے سے پہلے پھل کی بیع سے منع فرمایا ۔ لوگوں نے پوچھا : رنگ پکڑنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ سرخ ہو جائے اور کہا : جب اللہ تعالیٰ پھلوں سے محروم کر دے تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے
حدیث 3979 — صحيح مسلم 22:18
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالعزیز بن محمد نے حمید کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر اللہ تعالیٰ اسے بارآور نہ کرے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے مال کو کس بنیاد پر اپنے یے حلال سمجھے گا
حدیث 3980 — صحيح مسلم 22:19
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، - وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّوسلم أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ - وَهْوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا ‏.‏
بشر بن حکم ، ابراہیم بن دینار اور عبدالجبار بن علاء سے روایت ہے ، الفاظ بشر کے ہیں ، سب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں ( قیمت ) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے ۔ ابواسحاق ابراہیم نے ، وہ امام مسلم کے شاگرد ہیں ، کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن بشر نے بھی سفیان سے یہی حدیث بیان کی
حدیث 3981 — صحيح مسلم 22:20
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِغُرَمَائِهِ ‏"‏ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کا ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے ، اس کا قرض بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس پر صدقہ کرو ۔ " لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ بھی قرض کی ادائیگی ( جتنی مالیت ) تک نہ پہنچا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض داروں سے فرمایا : " جو تمہیں مل جائے ، وہ لے لو ، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔