یحییٰ بن حبیب نے کہا : ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی ۔ محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث سنائی ۔ محمد بن ولید نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں نضر نے خبر دی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں وہب بن جریر نے حدیث بیان کی ، ( خالد بن حارث ، یحییٰ بن سعید ، محمد بن جعفر ، نضر اور وہب بن جریر ) سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا : یحییٰ سے روایت ہے ۔ ( اور آگے یہ کہا : ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کی رکھوالی ، شکار اور کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کی اجازت دے دی ۔
حدیث 4023 — صحيح مسلم 22:62
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِي نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے مویشیوں کی حفاظت کرنے والے اور شکاری کتے کے سوا کتا پالا اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے
زہری نے سالم سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے شکار یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے شکار یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے عمل میں س ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔
محمد بن ابی حرملہ نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے مویشیوں کے کتے یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔ "" حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : "" یا کھیتی کے کتے ( کے سوا ۔)
حنظلہ بن ابی سفیان ( اسود بن عبدالرحمان بن صفوان بن امیہ ) نے سالم سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" جس نے شکاری کتے یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا پالا اس کے عمل سے ہر دو روز قیراط کم ہوں گے ۔ "" سالم نے کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : "" یا کھیتی کے کتے ( کے سوا ۔ ) "" اور وہ ( خود ) کھیتی کے مالک تھے ۔ ( اس لیے انہیں یہ بات یاد تھی ۔)
عمر بن حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جن گھر والوں نے مویشیوں ( کی حفاظت ) والے کتے یا شکاری کتے کے سوا کتا رکھا ، تو ان کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔
ابوحکم سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " جس نے کھیتی یا بکریوں ( کی حفاظت ) یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" جس شخص نے کتا پالا جو شکاری ہے ، نہ مویشیوں کے لیے ہے اور نہ ہی زمین کے لیے ، اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔ "" ابوطاہر کی حدیث میں "" نہ زمین کے لیے "" کے الفاظ نہیں ہیں ۔
امام زہری نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے مویشیوں ، شکار یا کھیتی ( کی حفاظت کرنے ) والے کتے کے سوا ( کوئی اور ) کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔ "" امام زہری نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! وہ ( خود ) کھیت کے مالک تھے ۔ ( انہوں نے یہ بات ضبط کی ۔)