قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1398 — صحيح مسلم 5:232
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
علاء نے اپنے والد ( عبدالرحمان بن یعقوب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ گرمی آتش دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے ، اس لیے نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو
حدیث 1399 — صحيح مسلم 5:233
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1400 — صحيح مسلم 5:234
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْرِدْ أَبْرِدْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ انْتَظِرِ انْتَظِرْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ ‏.‏
حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کا مؤذن ظہر کے اذان دینے لگا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( وقت کو ) ٹھنڈا ہونے دو ، ٹھنڈا ہونے دو ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : انتظار کرو ، انتظار کر و ‘ ‘ ۔ اور فرمایا : ’’ بلاشبہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ، اس لیے جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو ۔ ‘ ‘ ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا قول ہے : ( نماز میں اتنی تاخیر کی گئی ) حتی کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا ۔
حدیث 1401 — صحيح مسلم 5:235
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ‏.‏ فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ نےاپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھارہا ہے ۔ تو اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا کردی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی ، گرمی اور سردی کے موسم میں جو تم شدید ترسین گرمی اور شدید ترسین سردی محسوس کرتے ہو تو یہ وہی ( چیز ) ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1402 — صحيح مسلم 5:236
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ ‏"‏ أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ‏"‏ ‏.‏
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھوکیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اور آپ ﷺ نے یہ ( یہ بھی ذکر فرمایا : ) ’’جہنم کی ) آگ نے اپنے رب کےحضور شکایت کی تو اللہ نےاسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی مین اور ایک سانس گرمی میں ۔ ‘ ‘
حدیث 1403 — صحيح مسلم 5:237
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَتِ النَّارُ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأْذَنْ لِي أَتَنَفَّسْ ‏.‏ فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ أَوْ زَمْهَرِيرٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن ابراہیم نےابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’آگ نے عرض کی : اے میرے رب ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے ، مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرما ۔ تو ( اللہ نے ) اسے دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں ۔ تم جو سردی یا ٹھنڈک کی شدت پاتے ہو ، وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم حرارت یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ ( بھی ) جہنم کی سانس سے ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1404 — صحيح مسلم 5:238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَابْنِ، مَهْدِيٍّ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ‏.‏
حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا
حدیث 1405 — صحيح مسلم 5:239
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ فِي الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا ‏.‏
ابو احوص سلام بن سلیم نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے سعید بن وہب سے اور انھوں حضرت خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شدید گرم ریت پر نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔
حدیث 1406 — صحيح مسلم 5:240
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، - قَالَ عَوْنٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ، وَاللَّفْظُ، لَهُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ أَفِي الظُّهْرِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ أَفِي تَعْجِيلِهَا قَالَ نَعَمْ ‏.‏
زہیر نے کہا : ہمیں ابو اسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔ زہیر نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : کیا ظہر کے بارے میں ( شکایت کی ؟ ) انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ میں نےکہا : کیا اس کو جلد ی پڑھنے ( کی مشقت ) کے بارے میں ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
حدیث 1407 — صحيح مسلم 5:241
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ‏.‏
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔