(مالک بن ا نس کے بجائے ) ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً ہر نبی کی ایک دعا ہے ( جس کی قبولیت یقینی ہے ۔ ) میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان شاءاللہ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کرنے کے لیے محفوظ رکھوں گا ۔ ‘ ‘
ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ( ابو سلمہ کے بجائے ) عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی سے اسی کے مانند حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کی ۔
حدیث 490 — صحيح مسلم 1:396
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لِكَعْبِ الأَحْبَارِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ كَعْبٌ لأَبِي هُرَيْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ .
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عمرو بن ابی سفیان ثقفی نےخبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے کہا ، بلاشبہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر نبی کی ایک ( یقینی ) دعا ہے جو وہ کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کےدن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں ۔ ‘ ‘ اس پر کعب نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے یہ فرمان ( براہ راست ) رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےجواب دیا : ہاں
ابو صالح نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو ( یقینی طور پر ) قبول کی جانے والی ہے ۔ ہر نبی نےاپنی وہ دعا جلدی مانگ لی ) جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو ا للہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا ۔ ‘ ‘
ابو زرعہ ے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کے لیے ایک قبول کی جانے والی دعا ہے ، وہ اسےمانگتا ہے تو ( ضرور ) قبول کی جاتی ہے اور وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے ۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا ( بچا ) کر رکھی ہے ۔ ‘ ‘
محمد بن زیاد نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگی اور وہ اس کے لیے قبول ہوئی ۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں ۔ ‘ ‘
ہشام نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نےحدیث سنائی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک ( یقینی مقبول ) دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے کی جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ۔ ‘ ‘
وکیع اور ابو اسامہ نےمسعر سے حدیث سنائی ، انہوں نےقتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اتنا فرق ہے کہ وکیع کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’ آپ نے فرمایا : ( ہر نبی کو ایک دعا ) ’’عطا کی گئی ہے ‘ ‘ اور ابو اسامہ کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 497 — صحيح مسلم 1:403
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ .
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا......... آگے کی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے ۔