قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 508 — صحيح مسلم 1:414
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ‏.‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ ‏"‏ يَا صَبَاحَاهْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا مُحَمَّدٌ ‏.‏ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي فُلاَنٍ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏"‏ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ ‏.‏ كَذَا قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ‏.‏
ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ ( خاص کر ) اپنے خاندان کے مخلص لوگوں کو ۔ تو رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا : ’’وائے اس کی صبح ( کی تباہی ) ِِ ( سب ایک دوسرے سے ) پوچھنے لگے : یہ کون پکا رہا ہے ؟ ( کچھ ) لوگوں نے کہا : محمدﷺ ، چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد ! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبد المطلب کی اولاد! ‘ ‘ یہ لوگ آپ کےقریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا : ’’تمہارا کیا خیال ہے ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات ( سننے ) کا تجربہ نہیں ہوا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تو میں تمہیں آنےوالے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو ابولہب کہنے لگا : تمہارے لیے تباہی ہو ، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟ پھر وہ اٹھ گیا ۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی : ’’ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا ۔ ‘ ‘ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا ۔
حدیث 509 — صحيح مسلم 1:415
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا فَقَالَ ‏"‏ يَا صَبَاحَاهْ ‏"‏ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ ‏{‏ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏
اعمش شے ( ابو اسامہ کے بجائے ) ابو معاویہ نے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا : ’’ وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘ اس کے بعد ابو اسامہ کی بیان کر دہ حدیث کی طرح روایت کی اورآیت : ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اترنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 510 — صحيح مسلم 1:416
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ انہوں نے کہا : اے اللہ کےرسول! کیا آپ نے ابو طالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے ۔ آپ نےجواب دیا : ’’ہاں ، وہ کم گہری آگ میں ہیں ( جو ٹخنوں تک آتی ہے ) اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے ۔ ‘ ‘
حدیث 511 — صحيح مسلم 1:417
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ ‏"‏ ‏.‏
سفیان ( بن عیینہ ) نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ابو طالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے ، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر ( مخالفین پر ) غصہ کرتے تھے توکیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، میں نے ان کو آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو ان کم گہری آگ تک نکال لایا ۔ ‘ ‘
حدیث 512 — صحيح مسلم 1:418
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ‏.‏
سفیان ( ثوری ) نے اسی سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی ابو عوانہ نے بیان کی ۔
حدیث 513 — صحيح مسلم 1:419
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ ‏ "‏ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کےسامنے آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی اور انہیں اتھلی ( کم گہری ) آ گ میں ڈالا جائے گا جو ( بمشکل ) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی ، اس سے ( بھی ) ان کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 514 — صحيح مسلم 1:420
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اہل جہنم میں سے سب سے کم عذاب میں وہ ہو گا جو آگ کی دو جوتیاں پہنے ہوگا ، اس کی جوتیوں کی گرمی سے اس کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 515 — صحيح مسلم 1:421
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ دوزخیوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا ، انہوں نے دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جن سے ان کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 516 — صحيح مسلم 1:422
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَخْطُبُ وَهْوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ابو اسحاق سے سن کر حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : میں نے حضرت نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو خطاب کرتے ہوئے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا : آپ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن دوزخیوں میں سے سب کم عذاب اس آدمی کو ہو گا جس کے تلووں کےنیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے ، ان سے اس کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 517 — صحيح مسلم 1:423
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلاَنِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا ‏"‏ ‏.‏
(شعبہ کے بجائے ) اعمش نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے حضرت نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہو گا جس کےدونوں جوتے اور دونوں تسمے آگے کے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ، وہ نہیں سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے زیادہ عذاب میں ہے ، حالانکہ حقیقت میں وہ ان سب میں سے ہلکے عذاب میں ہو گا ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔