حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انھوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور ا نھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ، اس سے بہتر ہیں ۔
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے طلوع فجر کے وقت کی دورکعتوں کے بارے میں فرمایا : " وہ دو ( رکعتیں ) مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) اور ( قُلْ هُوَ اللہ أَحَدٌ ) تلاوت کیں ۔
مروان بن معاویہ فزاری نے عثمان بن حکیم انصاری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن یسار نے بتایا کہ انھیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی میں ( قرآن مجید سے آیت ) ( قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا ) ( والاحصہ ) پڑھتے جو سورہ بقرہ کی آیت ہے اور دوسری میں ( آل عمران کی آیت ) ( آمَنَّا بِاللہ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ) ( والا حصہ ) پڑھتے ۔
ابو خالد احمر نے عثمان بن حکیم سے ، انھوں نے سعید بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں ( قرآن مجید میں سے ) ( قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا ) ( والا حصہ ) اور جو سورہ آل عمران میں ہے ( تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ) ( والاحصہ ) پڑھا کرتے تھے ۔
ابو خالد سلیمان بن حیان نے داود بن ابی سند سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نعمان بن سالم سے اور انھوں نے عمرہ بن اوس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنے مرض الموت میں ایک ایسی حدیث سنائی جس سے انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے ، کہا : میں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا "" جس نے ایک دن اور ایک رات میں بارہ رکعات ادا کیں اس کے لئے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے ۔ "" ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ عنبسہ نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ عمرو بن اوس نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں عنبسہ سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ نعمان بن سالم نے کہا : جب سے میں نے عمرو بن اوس سے ان کے بارے میں سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں داود نے نعمان بن سالم سے اسی سندکے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، " جس نے ایک دن میں بارہ رکعات نوافل پڑے اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث سنائی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے انھوں نے عنبسہ بن ابی سفیان سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آ پ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : ”کوئی ایسا مسلمان بندہ نہیں جو ہر روز اللہ کے لئے فرائض کے علاوہ بارہ رکعات سنتیں ادا کرتا ہے مگر اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے ۔ یا اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے ۔ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اب تک انھیں مسلسل اداکرتے آرہی ہوں ۔ عمرو نے کہا : میں اب تک ان کو ہمیشہ ادا کر تا آرہاہوں ۔ نعمان نے بھی اس کے مطابق کہا ۔
بہز نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سندکے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس بھی مسلمان بندے نے اہتمام کے ساتھ مکمل وضو کیا ، پھر اللہ کی رضا کی خاطر ہر روز ( نفل ) نماز پڑھی ۔ ۔ ۔ " اور اسی کے مطابق روایت کی ۔