وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ .
سعید بن جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے؟انہوں نے کہا : ہاں ، جب لوگوں ( کے معاملات کی دیکھ بھال اورفکر مندی ) نے آپ کو بوڑھا کردیا ۔
حدیث 1709 — صحيح مسلم 6:139
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا ۔ ۔ ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی نماز کا بہت سا حصہ بیٹھے ہوئے ہوتا تھا ۔
عبداللہ بن عروہ کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن زرا بڑھ گیا اور آپ بھاری ہوگئے تو آپ کی نماز کا زیادہ تر حصہ بیٹھے ہوئے ( ادا ) ہوتا تھا ۔
۔ امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سائب بن یزید سے ، انھوں نے مطلب بن ابی وداعہ سہمی سے اور انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر کبھی نہ پڑھتے دیکھاتھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے کا زمانہ ہوا تو آپ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنےلگے ۔ آپ سورت کی قراءت کرتے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی لمبی ہوجاتی ۔ ( یعنی بیٹھ کر لیکن اور بھی زیادہ لمبی نماز پڑھتے)
جریر نے مجھے حدیث سنائی ، انھوں نے منصور سے ، انھوں نے ہلال بن یساف سے ، انھوں نے ابو یحییٰ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ( بن حوص ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیٹھ کر آدمی کی نماز ( اجر میں ) آدھی نماز ہے ۔ " انھوں نے کہا : ایک بار میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر مبارک پر لگایا ۔ آپ نے ہوچھا : " اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا ہے " بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے ۔ " جب کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ایسا ہی ہے لیکن میں تم میں سے کسی ایک طرح کا نہیں ہوں ۔
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ شعبہ کی روایت میں ہے : " ابو یحییٰ الاعرج سے روایت ہے " ( انھوں نے ابو یحییٰ کے ساتھ ان کے لقب الاعرج کا بھی ذکر کیا ہے)
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کوگیارہ رکعت پڑھتے تھے ، ان میں سے ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے ، جب آپ اس ( ایک رکعت ) سے فارغ ہوجاتے تو آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ کے پاس موذن آجاتا تو آپ دو ( نسبتاً ) ہلکی رکعتیں پڑھتے ۔