شعبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے مجلز سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : " وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔
حدیث 1759 — صحيح مسلم 6:188
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " . وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے ابو مجلز سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ " ( وتر ) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔ " اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ( وتر ) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے ۔
ابو کریب اور ہارون بن عبداللہ نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے ولید بن کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ ایک آدمی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے آپ کو آواز دی اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں رات کی نماز کو وتر ( طاق ) کیسے بناؤں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو ( رات ) کی نماز پڑھے وہ دو دو رکعت پڑھے ، پھر وہ اگر محسوس کرے کہ صبح ہورہی ہےتو ایک رکعت پڑھ لے ، یہ ( ایک رکعت ) اس کی ساری نماز کو وتر ( طاق ) بنا دے گی ۔ "" ابو کریب نے عبیداللہ بن عبداللہ کہا ، ( آگے ) ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ۔
خلف بن ہشام اور ابوکامل نے کہا : ہمیں حماد بن زیدنے انس بن سیرن سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، کیا میں ان میں طویل قراءت کرسکتا ہوں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے ، میں نے کہا : میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ۔ انھوں نے کہا : تم ایک بوجھل آدمی ہو ( اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو ) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لئے بات کو مکمل کروں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح ( کی نماز ) سے پہلے ( مختصر سی ) دو رکعتیں پڑھتے ، گویا کہ اذان ( اقامت ) آ پ کے کانوں میں ( سنائی دے رہی ) ہے ۔ خلف نے اپنی حدیث میں "" صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کہا اور انھوں نے "" صلاۃ "" کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
شعبہ نے انس بن سیرین سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا : رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر پڑھتے ۔ اس میں ہے ( اور میرے دوبارہ سوا ل پر ) کہا : بس ، بس ، تم ایک بوجھل آدمی ہو ۔
عقبہ بن حریث نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات کی نماز دو رکعت ہے اور جب تم دیکھو کہ صبح آیا چاہتی ہے تو ایک رکعت سے ( اپنی نماز کو ) وتر کرو ۔ " ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی گئی : مثنیٰ ، مثنیٰ ، کا کیا مفہوم ہے؟انھوں نے کہا : یہ کہ تم ہر دو رکعتوں ( کے آخر ) میں سلام پھیرو ۔
حدیث 1764 — صحيح مسلم 6:193
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا " .
معمرنے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو ۔
حدیث 1765 — صحيح مسلم 6:194
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ، سَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ " .
شیبان نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ابو نضرۃ عوقی نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں ( صحابہ ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو ۔
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا ، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے ۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا ، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے ۔ "" ابومعاویہ نے ( مشهوده کی بجائے ) محضورة ( اس میں حاضری دی جاتی ہے ) کہا ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " تم میں سے جسے یہ خدشہ ہوکہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے ، پھر سوجائے اور جسے رات کو اٹھ جانے کا یقین ہو ، وہ رات کے آخرمیں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت حاضری دی جاتی ہے اور یہ بہتر ہے ۔