سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت ( کی جگہ ) آئے ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا ، پھر دو ( طرح کے ) وضو ( بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو ) کے درمیان کا وضو کیا اور ( پانی ) زیادہ ( استعمال ) نہیں کیا اور ( وضو ) اچھی طرح کیا ، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی ، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ ( کے حالات جاننے ) کی خاطر جاگ رہا تھا ، پھر میں نے وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ تو میں آپ کی دائیں جانب کھڑا ہوگیا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب ( کھڑا ) کرلیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی ، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی ۔ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی ، آپ نے نماز پڑھی ( سنت فجر ادا کیں ) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا : "" اےللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھردے اورمیری دائیں طرف نور کردے اور میری بائیں طرف نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے لئے نور کو عظیم کردے ۔ "" ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) کریب نے بتایا کہ ( ان کے علاوہ مزید ) سات ( چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن ) کا تعلق جسم کے صندوق ( پسلیوں اور اردگرد کے حصے ) سے ہے ، میر ی ملاقات حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انھوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ، انھوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں ، میرے گوشت ، میرےخون ، میرے بالوں اور میری کھال ( کو نور کردے ) ، دو اور بھی چیزیں بتائیں ۔
حدیث 1789 — صحيح مسلم 6:217
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - وَهِيَ خَالَتُهُ - قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ .
امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک رات ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں ، تو میں سرہانے ( بستر ) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس ( بستر ) کے طول ( لمبائی ) میں لیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہوئی ۔ یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہوگئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے ، ( چہرے پر ہاتھ پھیرا ) پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں ، پھر آپ اٹھ کرایک لٹکے ہوے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : "" میں اٹھا اور میں نے بھی وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاتھا ۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑ ہوگیااس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر ( آہستہ سے ) مروڑنے لگے ۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں پڑھیں ۔ پھر وتر پڑھا ، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس آیا تو آ پ کھڑے ہوئے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر تشریف لئے گئے اور صبح کی نماز ادا کی ۔
عیاض بن عبداللہ فہری نے مخرمہ بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور یہ اضافہ کیا : پھر آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا رخ کیا ، پھر مسواک کی اور وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، لیکن پانی بہت ہی کم بہایا ، پھر مجھے ہلایا اور میں کھڑا ہوگیا ۔ ۔ ۔ باقی ساری حدیث مالک کی حدیث کی طرح ہے ۔
حدیث 1791 — صحيح مسلم 6:219
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ .
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے ، انھوں نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے اور انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کے پاس تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ ( کے سانسوں ) کی آواز آنے لگی ، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آوازآتی تھی ۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی ، آپ نے ( ازسرنو ) وضو نہیں کیا ۔ عمرو نے کہا میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انھوں نے کہا : کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی ۔
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بسر کی ، میں نے ان سے عرض کی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آ پ مجھے بھی بیدار کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف میں کردیا ، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے ، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا ( اور سوگئے ) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آوازسن رہاتھا ۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں ۔
حدیث 1793 — صحيح مسلم 6:221
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا - قَالَ وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ .
سفیان بن عمرو بن دینار سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات بسر کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ت کے وقت اٹھے ، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضوکیا ( کریب نے ) کہا : انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔ پھر آکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا ، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا ( اور گھما کر ) اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ پھر آپ نے نماز پڑھی ۔ پھر لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آوا ز سے سانس لینے لگے ۔ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی ، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور ( نیا ) وضو نہ کیا ۔ سفیان نے کہا : یہ ( نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتاتھا ۔
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے اور ا نھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری ، میں نے ( وہاں رہ کر ) مشاہدہ کیا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں ۔ کہا : آپ اٹھے ، پیشاب کیا ، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں ۔ پھر سوگئے ۔ آپ ( کچھ دیر بعد ) پھر اٹھے ، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کابندھن کھولا ، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا ، پھر دو وضووں کے درمیا کاخوبصورت وضو کیا ( وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا ) ، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کے پہلو میں کھٹرا ہوگیا ، آپ کی بائیں جانب کھٹرا ہوا ۔ کہا : تو آپ نے مجھے پکڑ کراپنی دائیں جانب کردیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ سوگئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سوجاتے تو ہم آپ کے سونے کوآپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے ، پھر آپ نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی ۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے : " اے اللہ!میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نو ر کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لئے نور بنا ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : " مجھے نور بنا ۔ ۔ ۔
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلمہ بن کبیل نے بکیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ سلمہ نے کہا : میں کریب کو ملا تو انھوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ پھر انھوں نے غندر ( محمد بن جعفر ) کی حدیث ( 1794 ) کی طرح بیان کیا اور کہا : "" اور مجھے سراپا نور کردے "" اور انھوں نے ( کسی بات میں ) شک کا اظہار نہ کیا ۔
۔ سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے ابو رشدین ( کریب ) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری ، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کاذکر نہیں ہے ، ہاں ، یہ کہا : پھر آپ مشک کے پاس آئے ، اس کا بندھن کھولا ، اور دو وضووں کے درمیان کا وضوکیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اورمشک کے پاس آئے ، اس کابندھن کھولا ، پھر دوبارہ وضو کیاجو ( صحیح معنی میں ) وضوتھا اور کہا : " میرا نور عظیم کردے " اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کردے ۔
حدیث 1797 — صحيح مسلم 6:225
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً . قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَىْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَىَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " .
عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان ( عقیل ) سے حدیث بیان کی کہ کریب نے ان ( سلمہ ) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری ، انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ نے نہ پانی زیادہ استعمال کیا نہ وضو میں کوئی کمی کی ۔ ۔ ۔ اور پوری حدیث بیا ن کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس رات انیس کلمات پر مشتمل دعا کی ۔ ( تمام الفاظ جمع کریں تو انیس بنتے ہیں ) سلمہ نے کہا : کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرمااور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے دائیں نور کردے اور میرے بائیں نور کردے او ر میرے آگے نور کردے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے اندر نور کردے اور میرے نور کو عظیم کردے ۔