قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1818 — صحيح مسلم 6:246
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُصَلُّونَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ‏.‏ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ ‏"‏ وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً ‏"‏ ‏.‏
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت انھیں اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جگایا اور فر ما یا : " کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نےکہا : اے اللہ کے رسول !ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ واپس چلے گئے پھر میں نے آپ کو سنا کہ آپ واپس پلٹتے ہو ئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے ( آیتکا ایک ٹکڑاپڑھتے ) تھے : " انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا کرنے والا ہے ( جدل ( جھگڑا ) یہ تھی کہ جگا ئے جا نے پر ممنون ہو نے اور نماز پڑھنے کی بجا ئے عذر پیش کیا گیا ۔
حدیث 1819 — صحيح مسلم 6:247
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلاَثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلاً طَوِيلاً فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلاَّ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا آپ نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی سوجا تا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے پر تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ تم پر ایک بہت لمبی رات ( کا سونا لا زم ) ہے جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعا لیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جا تی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے اس سے دو گرہ کھل جا تی ہے پھر جب نماز پڑھتا ہے ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ چاق چوبند ہشاش بشاش پاک طبیعت ( کےساتھ ) صبح کرتا ہے ورنہ ( جاگ کر عبادت نہیں کرتا تو ) صبح کو گندے دل کے ساتھ اور سست اٹھتا ہے ۔
حدیث 1820 — صحيح مسلم 6:248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " کچھ نمازیں گھر میں پڑھا کرو اور ان ( گھروں ) کو قبریں نہ بناؤ ۔
حدیث 1821 — صحيح مسلم 6:249
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‏"‏ ‏.‏
ایوب نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : گھروں میں ( نفل ) نمازیں پڑھوں اور انھیں قبریں نہ بناؤ ۔
حدیث 1822 — صحيح مسلم 6:250
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلاَةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلاَتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلاَتِهِ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی اپنی مسجد میں نماز ( باجماعت ) ادا کر لے تو اپنی نماز میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے کیونکہ اللہ اس کے گھر میں اس کے نماز پڑھنے کی وجہ سے خیروبھلا ئی رکھے گا ۔
حدیث 1823 — صحيح مسلم 6:251
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ وَالْبَيْتِ الَّذِي لاَ يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَىِّ وَالْمَيِّتِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جا تا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جا تا زندہ اور مردہ جیسی ہے ۔
حدیث 1824 — صحيح مسلم 6:252
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا ؤ شیطان اس گھر سے بھا گتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔
حدیث 1825 — صحيح مسلم 6:253
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيهَا - قَالَ - فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمْ - قَالَ - فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُغْضَبًا‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ سعید نے کہا : عمر بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابو نضرنے ہمیں بسربن سعید سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) باہر آکر اس میں نماز پڑھنے لگے لو گ اس ( حجرے ) تک آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور آکر آپ کی اقتدامیں نماز پڑھنے لگے ، پھر ایک اور رات لو گ آئے اور ( حجرےکے ) پاس آگئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تا خیر کر دی ۔ کہا : آپ ان کے پاس تشریف نہ لا ئےصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں ( تاکہ آپ آوازیں سن کر تشریف لے آئیں ) اور دروازے پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف تشریف لا ئے اور ان سے فر ما یا : تم مسلسل یہ عمل کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم قراردے دی جا ئے گی ، اس لیے تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی فرض نماز کے سوا وہی بہتر ہےجو گھر میں پڑھے ۔
حدیث 1826 — صحيح مسلم 6:254
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو نضرسے سنا انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا اور آپ نے اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس لو گ جمع ہو گئے ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ) " اگر تم پر نماز فرض کر دی گئی تو تم ( سب ) اس کی پابندی نہیں کر سکو گے ۔ " ( یہ حجرہ اعتکاف کے لیے تھا ۔)
حدیث 1827 — صحيح مسلم 6:255
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصِيرٌ وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَمِلُوا عَمَلاً أَثْبَتُوهُ ‏.‏
سعید بن ابی نے ابو سلمہ ( نم عبد الرحمان بن عوف ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی آپ رات کو اس سے حجرہ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے تو لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنی شروع کر دی آپ دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے ایک رات لو گ کثرت کے ساتھ جمع ہو گئے تو آپ نے فر ما یا : " لوگو !اتنے اعمال کی پابندی کرو جتنے اعمال کی تم میں طاقت ہے کیونکہ ( اس وقت تک ) اللہ تعا لیٰ ( اجرو ثواب دینے سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم خود اکتا جاؤ اور یقیناًاللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جا ئے چاہے وہ کمہو ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کو ئی عمل کرتے تو اسے ہمیشہ بر قرار رکھتے ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔