وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ، مَالِكٍ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ سَوَاءً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ .
عمر بن مالک اور حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ بالکل اس جیسی روا یت بیان کی اور انھوں نے ( ان رسول الله ) ( بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ) کہا اور سَمِعَ ( اس نے سنا ) کا لفظ نہیں بولا ۔
حییٰ بن ابی کثیرؒ نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس طرح کا ن نہیں دھرا جیسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کی آواز ) پر کا ن دھرتا ہے جو بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرتا ہے ۔
یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے کہا : ہمیں اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث کی طرح روا یت بیان کی مگر ابن ایوب نے اپنی روا یت میں ( كاذنه کے بجا ئے ) كاذنه ( جس طرح وہ اجازت دیتا ہے ) کہا ۔ اس ( طرح ما اذن الله کا معنی ہو گا اللہ تعا لیٰ نے ( بار یابی کی اجازت نہیں دی ۔)
حضرت برید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عبد اللہ بن قیس ۔ ۔ یا اشعری ۔ ۔ ۔ کو آل داودکی بنسریوں ( خوبصورت آوازوں ) میں سے ایک بنسری ( خوبصورت آواز ) عطاکی گئی ہے
(حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا ) : کیا ہی خوب ہو تا ) کاش! تم مجھے دیکھتے جب گزشتہ رات میں بڑے انہماک سے تمھاری قراءت سن رہا تھا تمھیں آل داؤدکی خوبصورت آوازوں میں سے ایک خوبصورت آوازدی گئی ہے ۔
عبداللہ بن ادریس اور وکیع نے شعبہ سے اور انھوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں اپنی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرمائی اور اپنی قراءت میں آواز کو دہرایا ۔ معاویہ نے کہا : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہوجائیں گے تو میں تمھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی قراء ت سناتا ۔
حدیث 1854 — صحيح مسلم 6:282
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ . قَالَ فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلاَ النَّاسُ لأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَلِكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے ہمیں معاویہ بن قرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر ( سوار ) سورہ فتح پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ ( معاویہ بن قرہ نے ) کہا : حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےقراءت کی اور اس میں ترجیع کی ، معاویہ نے کہا : اگر مجھے لوگوں ( کے اکھٹے ہوجانے ) کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمھارے لئے ( قراءت کا ) وہی ( طریقہ اختیار ) کرتا جو حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا تھا ۔
خالد بن حارث اور معاذ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ، خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سورہ فتح تلاوت کرتے ہوئے اپنی ) سواری پر سفر کررہے تھے ۔
ابو خثیمہ نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے حضرت بر اء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کررہاتھا اور اس کے پاس ہی دو رسیوں میں بندھا ہواگھوڑا ( موجود ) تھا ۔ تو اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت کی ۔ گھرمیں ( اس وقت ) ایک چوپا یہ بھی تھا ۔ وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا کہ جا نور کے اوپر دھندیا بدلی تھی جو اس پر چھائی ہو ئی ہے تو اس نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپ نے فر ما یا : اے شخص ! پڑھا کرو یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری ( یا قرآن کی خاطر نازل ہو ئی ۔)