حصین بن عبد الرحمن سے ( ہشیم کے بجائے ) محمد بن فضیل نے سعید بن جبیر کے حوالے سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نےحدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرےسامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر حدیث کا باقی حصہ ہشیم کی طرح بیان کیا اور ابتدائی حصے ( حصین کےواقعے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
ابو احوص نے ابو اسحاق سے حدیث سنائی ، انہوں نےعمرو بن میمون سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےہم سے فرمایا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نے ( خوشی ) اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس پر راضی نہ ہوگے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ کہا کہ ہم نے ( دوبارہ ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کانصف ہو گے اور ( یہ کیسے ہو گا؟ ) میں اس کے بارے میں ابھی بتاؤں گا ۔ کافروں ( کے مقابلے ) میں مسلمان اس سے زیادہ نہیں جتنے سیاہ رنگ کے بیل میں ایک سفید بال یا سفید رنگ کے بیل میں ایک
ابو اسحاق سے ( ابو احوص کے بجائے ) شعبہ نے حدیث سنائی ، انہو ں نے عمرو بن میمون سے ا ور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم تقریباً چالیس افراد ایک خیمے میں رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس بات پر راضی ہو گے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت میں سے آدھے ہو گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں اس انسان کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا جس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔ اور مشرکوں میں تمہاری تعداد ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال ۔ ‘ ‘
مالک بن مغول نے ابو اسحاق کےواسطے سے عمرو بن میمون سے حدیث سنائی انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب کیا آپ نے چمڑے کے ایک خیمے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور فرمایا : ’’یاد رکھو ! جنت میں اسلام لانے والی روح کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ ! تو گواہ رہنا ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے ، دوسری امتوں میں تم ( اس سے زیادہ ) نہیں ہو مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سیاہ بال جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہو ۔ ‘ ‘
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ) پر حد درجہ گراں گزری ۔ انہوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ( ایک ) آدمی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ، ہزار یا جوج ماجوج میں سے ہیں اور ایک تم میں سے ہے ، ( ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نےاللہ تعالیٰ کی حمد کی او رتکبیر کہی ( اللہ اکبرکہا ۔ ) ، پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی ، پھر فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے ۔ ( دوسری ) امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال اس سفید بال کی سی ہے جو سیاہ بیل کی جلدپر ہوتا ہے یا اس چھوٹے سے نشان کی سی ہے جو گدھے کے اگلے پاؤں پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
(جریر کے بجائے ) اعمش کے دو شاگردوں وکیع اور ابو معاویہ نےاسی سند کے ساتھ روایت کی ، لیکن دونوں کے الفاظ ہیں : ’’اس دن لوگوں میں تم ( اسےسے زیادہ ) نہیں ہو گے مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہوتا ہے یا سیاہ بال جو سفید بیل پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے گدھے کے اگلے پاؤں کے نشان کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے ۔ سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں ۔ نماز نور ہے ۔ صدقہ دلیل ہے ۔ صبر روشنی ہے ۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے تو ( کچھ اعمال کے عوض ) اپنا سودا کرتا ہے ، پھر یا تو خود آزاد کرنےوالا ہوتا ہے خود کو تباہ کرنے والا ۔ ‘ ‘
ابو عوانہ نے سماک بن حرب سےانہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گےوہ بیمار تھے ابن عامر نے کہا اے ابن عمر رضی اللہ عنہ کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گےانہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتااور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں ( مبادہ کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہوگا)
شعبہ ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی اسناد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے ۔
حدیث 537 — صحيح مسلم 2:4
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " .
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمدرسول اللہ ﷺ سے ہمیں سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث کا تذکرہ کیا ، ان میں سے یہ بھی تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے جب کوئی بے وضو ہو جائے ، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرے ۔ ‘ ‘