ابو زناد نے عرج سے انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو ( اس وقت ) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا : خا مو ش رہو تو تم نے ( خود ) شور مچا یا ۔ "" ابو زناد نے کہا : یہ ( فقد لغيت ) ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے قبیلے ) کی لغت ہے جبکہ ( عام مروج لغت ) ( فقد لغوت ) ہے ۔
یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس انھوں نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا ذکر کرتے ہو ئے فر ما یا : "" اس میں ایک گھڑی ہے اس ( گھڑی ) کی موافقت کرتے ہو ئے کو ئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہو ئے اللہ تعا لیٰ سے جو کچھ بھی مانگتا ہے اللہ تعا لیٰ اسے عطا کر دیتا ہے ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارا فر ما کر اس گھڑی کے قلیل ہو نے کو واضح کیا ۔
ایوب نے محمد سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بیشک جمعے کے دن میں ایک گھڑی ہے کوئی مسلمان بھی کھڑا نماز پڑھتے ہو ئے اس کی موافقت کر لیتا ( اسے پالیتا ) ہے ( اور ) اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی ( خیر ) عطا کر دیتا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ سے اس کے قلیل اور کم ہو نے کو بیان کیا ۔
حدیث 1971 — صحيح مسلم 7:21
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ابن عون نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے ما نند ہے ۔
حدیث 1972 — صحيح مسلم 7:22
وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
سلمہ بن علقمہ نے محمد سے اورانھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ہے
حدیث 1973 — صحيح مسلم 7:23
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ
محمد بن زیاد نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فر ما یا " جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت نہیں کرتا مگر اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے " فر ما یا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
حدیث 1974 — صحيح مسلم 7:24
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی لیکن انھوں نے ( وهي ساعة خفيفة ) ( وہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ) نہیں کہا ۔
ابو بردہ بن ابی مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہا : مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا تم نے اپنے والد کو جمعے کی گھڑی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ہے ؟کہ کہا : میں نے کہا : جی ہاں میں نے انھیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے : " یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہو نے تک ہے ۔
ابن شہاب نے کہا : مجھے عبد الرحمٰن اعرج نے خبر دی انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بہترین دن جس پر سورج طلوع ہو تا ہے جمعے کا دن ہے اسی دن آدم ؑپیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن اس سے نکا لے گئے ۔
ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رو یت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے جمعے کا ہے اسی دن آدم ؑکو پیدا کیا گیا تھا اور اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی میں انھیں اس سے نکا لا گیا ( خلا فت ارضی سونپی گئی ) اور قیامت بھی جمعے کے دن ہی بر پاہو گی ۔ " صالح مومنوں کے لیے یہ انعام عظیم حا صل کرنے کا دن ہو گا ۔