جریر اور سفیان نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" تم میں سے جو شخص جمعے کے بعد نماز پڑھے توچار رکعتیں پڑھے ۔ "" جریر کی حدیث میں "" منكم "" ( تم میں سے ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
لیث نے نافع سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب وہ جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جاتے اور اپنے گھر میں دو ر رکعتیں پڑھتے ۔ پھر انھوں ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالکؒ پر ( حدیث کی ) قراءت کی ، انھوں نے نافع سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کو بیان کیا اورکہا کہ آپ جمعے کے بعد کوئی ( نفل ) نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ واپس تشریف لے جاتے پھر ا پنے گھر میں د و رکعتیں پڑھتے تھے ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ( امام مالکؒ کے سامنے ) " فيصلي " پڑھا تھا یا یقین ہے ( کہ یہی پڑھاتھا)
حدیث 2041 — صحيح مسلم 7:91
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ .
سالم نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کےبعددو ر کعتیں پڑھتے تھے ۔
غندر نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن عطاء بن ابی خوار نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انھیں نمر کے بھانجے سائب کے پاس بھیجے ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھنے کے لئے جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز میں دیکھی تھی ۔ سائب نے کہا : ہاں ، میں نے مقصورہ ( مسجد کے حجرے ) میں ان کے ساتھ جمعہ پڑھا تھا ۔ اور جب امام نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا اور نماز پڑھی ۔ جب معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندرداخل ہوئے تو مجھے بلوایا اور کہا : جو کام تم نے کیا ہے آئندہ نہ کرنا ۔ جب تم جمعہ پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز سے نہ ملانا یہاں تک کہ گفتگو کرلو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیاتھا کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم گفتگو کرلیں یا ( اس جگہ سے ) نکل جائیں ۔
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے عمر بن عطاء نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انھیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید کے پاس بھیجا ۔ ۔ ۔ آگے سابقہ حدیث کے کی مانند بیان کیا ۔ مگر ( اس روایت میں ) یہ ہے کہ سائب نے کہا : جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا ۔ انھوں نے ( سلام پھیرا کہا ) امام کا ذکر نہیں کیا ۔
حسن بن مسلم نے طاوس سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : میں عید الفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا ہوں یہ سب خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے پھر خطبہ دیتے تھے ایک دفعہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( بلند جگہ سے ) نیچے آئے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کو دیکھ رہا ہوں جب آپ اپنے ہاتھ سے مردوں کو بٹھا رہے تھے پھر ان کے در میان میں سے راستہ بنا تے ہو ئے آگے بڑھے حتیٰ کہ عورتوں کے قریب تشریف لے آئے اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے آپ نے ( قرآن کا یہ حصہ تلاوت ) فر ما یا ۔ " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !جب آپ کے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنا ئیں گی ۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فر ما ئی حتیٰ کہ اس سے فارغ ہو ئے پھر فر ما یا ۔ " تم اس پر قائم ہو؟ " تو ایک عورت نے ( جبکہ ) آپ کو اس کے علاوہ ان میں سے اور کسی نے جواب نہیں دیا کہا : ہاں اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ۔ ۔ اس وقت پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کو ن ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فر ما یا ۔ " تم صدقہ کرو ۔ ۔ ۔ اس پر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا پھر کہنے لگے لاؤ تم سب پر میرے ماں باپ قربان ہوں !تو وہ اپنے بڑے بڑے چھلے اور انگوٹھیا ں بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ۔
سفیان بن عیینہ نے کہا : ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں نے عطاء سے سنا انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شہادت دیتا ہوں آپ نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھی پھر آپ نے خطبہ دیا پھر آپ نے دیکھا کہ آپ نے عورتوں کو ( اپنی بات ) نہیں سنائی تو آپ ان کے پاس آئے اور ان کو یاد دہانی ( تلقین ) فر ما ئی اور انھیں نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کپڑا پھیلا ئے ہو ئے تھے کو ئی عورت ( اس کپڑے میں ) انگوٹھی پھینکتی تھی ( کو ئی حلقے دارزیور ( چھلے بالیاں کڑے کنگن ) اور کوئی دوسری چیزیں ڈالتی تھی ۔
سفیان بن عیینہ نے کہا : ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں نے عطاء سے سنا انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شہادت دیتا ہوں آپ نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھی پھر آپ نے خطبہ دیا پھر آپ نے دیکھا کہ آپ نے عورتوں کو ( اپنی بات ) نہیں سنائی تو آپ ان کے پاس آئے اور ان کو یاد دہانی ( تلقین ) فر ما ئی اور انھیں نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کپڑا پھیلا ئے ہو ئے تھے کو ئی عورت ( اس کپڑے میں ) انگوٹھی پھینکتی تھی ( کو ئی حلقے دارزیور ( چھلے بالیاں کڑے کنگن ) اور کوئی دوسری چیزیں ڈالتی تھی ۔
ابن جریج نے کہا : ہمیں عطاء نے حجرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے ان ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن ( نماز کے لیے ) کھڑے ہو ئے پھر نماز پڑھا ئی چنانچہ آپ نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا کی پھر لو گوں کو خطاب فر ما یا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ سے ) فارغ ہو ئے تو ( چبوترے سے ) اتر کر عورتوں کے پاس آئے انھیں تذکیر و نصیحت کی جبکہ آپ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازوکا سہارا لیے ہو ئے تھے اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کپڑا پھیلا ئے ہو ئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے عطاء سے پوچھا فطر کے دن کا صدقہ ( ڈال رہی تھیں ؟ ) انھوں نے کہا : نہیں اس وقت ( اپنا ) صدقہ کر رہی تھیں ( کو ئی عورت چھلا ڈالتی تھی ( اسی طرح یکے بعد دیگر ے ( ڈال رہی تھیں اور ڈال رہی تھیں ۔ میں نے عطاء سے ( پھر ) پوچھا : کیا اب بھی امام کے لیے لا زم ہے کہ جب ( مردوں کے خطبے سے ) فارغ ہو تو عورتوں کو تلقین اور نصیحت کرے ؟ انھوں نے کہا : ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم ! یہ ان پر عائد شدہ ) حق ہے انھیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے ۔