عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا : میں ان کاکھیل دیکھناچاہتی ہوں ۔ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور میں دروازے پر کھڑی ہوکر آپ کے کانوں اور کندھوں کےدرمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے ۔ عطاء نے کہا : وہ ایرانی تھے یا حبشی ۔ اور کہا : مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے ۔
حدیث 2069 — صحيح مسلم 8:24
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : جبکہ حبشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے بھالوں سے کھیل رہے تھے توحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچ گئے اور کنکریاں اٹھانے کے لئے جھکے تاکہ وہ انھیں کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " عمر!انھیں چھوڑ دو ۔
امام مالکؒ نے عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کی ، انھوں نے عباد بن تمیم سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) باہر نکل کرعیدگاہ گئے ، بارش مانگی اور جب آپ قبلہ رخ ہوئے تواپنی چادر کو پلٹا ۔
حدیث 2071 — صحيح مسلم 9:2
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
سفیان بن عینیہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے اور انھوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) نکل کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور بارش کی دعاکی ، آپ نے قبلے کی طرف رخ کیا ، اپنی چادرپلٹی اوردو رکعت نماز پڑھی ۔
ابو بکربن محمد بن عمرو نے بتایا کہ ان کو عبادبن تمیم نے خبر دی ، ان کوحضرت عبداللہ بن زیدانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعاکرنے کےلئے عید گاہ گئے اور جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ فرمایا تو قبلہ کی طرف رخ کرلیا اور اپنی چادر کو پلٹ دیا ۔
حدیث 2073 — صحيح مسلم 9:4
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَجَعَلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
ابن شہاب نے کہا : مجھےعباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ، انھوں نے اپنے چچاسے سنا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے تھے وہ کہہ رہے تھے : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا مانگنےکے لئے نکلے ، اللہ سے دعاکرتے ہوئے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی ، منہ قبلہ کی طرف کیا اوراپنی چادر پلٹی ، پھر دو رکعت نمازادا کی ۔
حدیث 2074 — صحيح مسلم 9:5
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ .
شعبہ نے ثابت سے اورانھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی ۔
حدیث 2075 — صحيح مسلم 9:6
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ
حمادبن سلمہ نے ثابت سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش مانگنے کے لیے دعا فرمائی تو اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔
ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے سوا کسی اور دعا کے لئے اپنے ہاتھ ( اتنے زیادہ ) بلند نہیں کرتےتھے ۔ یہاں تک کہ اس سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھائی دینے لگتی ، البتہ عبدالاعلیٰ نے ( شک کے ساتھ ) کہا " يري بياض ابطه اوبياض ابطيه " ( آپ کی بغل کی سفیدی یا دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھائی دینے لگتی ۔)
حدیث 2077 — صحيح مسلم 9:8
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّحَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
یحییٰ بن سعید نے ( سعید ) بن ابی عروبہ سے اور انھوں نے قتادہ سے روایت کی کہ ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔