یزید بن زریع نے ایوب سے انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے آپ نے فر ما یا : " اس کو تین پانچ یا اگر تمھا ری را ئے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری ( کے پتوں ) سے غسل دو اور آخری بار میں کا فوریا کا فورمیں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جا ؤ تو مجھے اطلا ع کر دینا ۔ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلا ع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فر ما یا : " اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو
حفصہ بنت سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نے ان ( کے بالوں ) کی کنگھی کر کے تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں
حدیث 2170 — صحيح مسلم 11:48
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ . وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ . بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ .
مالک بن انس ، حماد اور ابن علیہ نے ایوب سے انھوں نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پاگئیں ۔ ابن علیہ کی حدیث میں ( یوں ) ہے ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے کہا : جب آپ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لا ئے ۔ ۔ ۔ ( اس سے آگے ) ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محمد ، ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے
۔ حماد نے ایوب سے ، انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( سابقہ حدیث ) کی طرح روایت بیان کی ، اس کے سوا کہ آپ نے فر ما یا : " تین ، پانچ سات یا اگر تمھاری رائے ہو تو اس سے زائد بار ( غسل دینا ۔ ) حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : ہم نے ان کے سر ( کے بالوں ) کی تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں ۔
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں ایوب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( بیان کرتے ہو ئے ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : اس کو طاق تعداد میں تین ، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو ۔ کہا اور ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے ان ( کے بالوں ) کی کنگھی کر کے تین مینڈھیاں بنا دیں ۔
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( بڑی ) بیٹی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا وفات پا گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فر ما یا : " اسے طاق تعداد میں تین یا پنچ مرتبہ غسل دو اور پانچویں بار ( پانی میں ) کا فور ۔ ۔ ۔ یا کچھ کا فور ۔ ۔ ۔ ڈال دینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جا ؤتو مجھے بتا نا ۔ " ہم نے آپ کو بتا یا تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فر ما یا : " اس ( تہبند ) کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو ۔
ہشا م بن حسان نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشر یف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹیوں میں سے ایک کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فر ما یا : " اسے طاق تعداد میں پانچ یا اس سے زائد بار غسل دینا ۔ ( آگے ) ایوب اور عاصم کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ) اس حدیث میں انھوں نے کہا : ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نے ان کے بالوں کو تین تہائیوں میں گو ندھ دیا ان کے سر کے دو نوں طرف اور انکی پیشانی کے بال ۔
حدیث 2175 — صحيح مسلم 11:53
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْسِلَ ابْنَتَهُ قَالَ لَهَا " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
ہشیم نے خالد سے خبردی انھوں نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں انھیں اپنی بیٹی کو غسل دینے کا حکم دیا تو ( وہاں یہ بھی ) فر ما یا : " ان کی دائیں جانب سے اور اس کے وضو کے اعضا ء سے ( غسل کی ابتداء کرو ۔)
اسماعیل ابن علیہ نے خالد سے انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے بارے میں ان سے فر ما یا : " ان کی دائیں جا نب سے اور ان کے وضو کے اعضاء سے آغاز کرو ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے انھوں نے شقیق سے اور انھوں نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کے راستے میں ہجرت کی ۔ ہم اللہ کی رضاچا ہتے تھے تو ( اس کے وعدے کے مطا بق ) ہمارا اجر اللہ پر واجب ہو گیا ۔ ہم میں سے کچھ لو گ چلے گئے انھوں نے ( دنیا میں ) اپنے اجر میں سے کچھ نہیں لیا ان میں سے ایک مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھے وہ احد کے دن شہید ہو ئے تو ان کے لیے ایک دھاری دار چادر کے سوا کو ئی چیز نہ ملی جس میں ان کو کفن دیا جا تا ۔ جب ہم اس کو ان کے سر پر ڈالتے تو ان کے پا ؤں باہر نکل جا تے اور جب ہم اسے ان کے پیروں پر رکھتے تو سر نکل جا تا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس کو ان کے سر والے حصے پر ڈال دا اور پاؤں پر کچھ اذخر ( گھاس ) ڈال دو ۔ اور ہم میں سے کو ئی ایسا ہے جس کے لیے پھل پک چکا ہے اور وہ اس کو چن رہا ہے