قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2208 — صحيح مسلم 11:86
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ فَأَمَّنَا وَصَلَّى عَلَيْهِ ‏.‏
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصمحہ فوت ہوگیا ہے ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
حدیث 2209 — صحيح مسلم 11:87
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے ، لہذا تم لوگ اٹھو اور اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھو ۔ " ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر ہم اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ۔
حدیث 2210 — صحيح مسلم 11:88
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي النَّجَاشِيَ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ‏"‏ إِنَّ أَخَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏
(زہیر بن حرب ، علی بن حجر ، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل ابن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ۔ " آپ کی مراد نجاشی سے تھی ۔ اور زہیر کی روایت میں ان اخالكم " تمھارا ایک بھائی " کی بجائے ) ان اخاكم ( تمھارا بھائی ) کےالفاظ ہیں ۔
حدیث 2211 — صحيح مسلم 11:89
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، إِدْرِيسَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا قَالَ الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ‏.‏ قُلْتُ لِعَامِرٍ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انھوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔ شیبانی نے کہا : میں نے شعبی سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حدیث کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گیلی ( نئی ) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھی اور انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں ۔ میں نے عامر ( بن شراحیل شعبی ) سے پوچھا : آپ کو ( یہ حدیث ) کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔
حدیث 2212 — صحيح مسلم 11:90
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏
ہشیم ، عبدالواحد بن زیاد ، جریر ، سفیان ، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
حدیث 2213 — صحيح مسلم 11:91
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ ‏.‏ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ‏.‏
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، ان کی حدیث میں ( بھی ) وكبر اربعا ( آپ نے چار تکبیریں کہیں ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حدیث 2214 — صحيح مسلم 11:92
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی ۔
حدیث 2215 — صحيح مسلم 11:93
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ - أَوْ شَابًّا - فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عَنْهَا - أَوْ عَنْهُ - فَقَالُوا مَاتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا - أَوْ أَمْرَهُ - فَقَالَ ‏"‏ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلاَتِي عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ۔ یا ایک نوجوان تھا ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت ۔ ۔ ۔ یا اس مرد ۔ ۔ ۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : وہ فوت ہوگیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟ " کہا : گویا ان لوگوں نے اس عورت ۔ ۔ ۔ یا اس مرد ۔ ۔ ۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اس کی قبردکھاؤ ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر دیکھائی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر فرمایا : " اہل قبور کے لئے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اورمیری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان ( قبروں ) کو منور فرمادیتا ہے ۔
حدیث 2216 — صحيح مسلم 11:94
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ شُعْبَةَ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُهَا ‏.‏
۔ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا : زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن ارقم ) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے ، انھوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں ، میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) اتنی ( پانچ ) تکبیریں کہا کرتے تھے ۔
حدیث 2217 — صحيح مسلم 11:95
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو اس کے لئے کھڑے ہوجاؤیہاں تک کہ وہ تم کو پیچھے چھوڑ دے ( آگے نکل جائے ) یا اسے رکھ دیا جائے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔