قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2268 — صحيح مسلم 12:6
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلاَ تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمان بن مہدی نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہ غلے میں صدقہ ہے نہ کھجور میں حتیٰ کہ وہ پانچ وسق تک پہنچ جائیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ ہے ۔
حدیث 2269 — صحيح مسلم 12:7
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ‏.‏
یحییٰ بن آدم نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے اسماعیل بن امیہ سے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ ابن مہدی کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حدیث 2270 — صحيح مسلم 12:8
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَيَحْيَى بْنِ آدَمَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - بَدَلَ التَّمْرِ - ثَمَرٍ ‏.‏
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ثوری اور معمر نے اسماعیل بن امیہ سے اسی سندکے ساتھ ، ابن مہدی اور یحییٰ بن آدم کی حدیث کی طرح بیان کیا ، البتہ انھوں نے تمر ( کھجور ) کے بجائے ثمر ( پھل ) کہا ۔
حدیث 2271 — صحيح مسلم 12:9
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبردی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ وسق سے کم کھجوروں میں صدقہ ہے ۔
حدیث 2272 — صحيح مسلم 12:10
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فر ما یا : " جس ( کھیتی ) کو دریا کا پانی یا بارش سیرا ب کرے ان میں عشر ( دسواں حصہ ) ہے اور جس کو اونٹ ( وغیرہ کسی جا نور کے ذریعے ) سے سیراب کیا جا ئے ان میں نصف عشر ( بیسواں حصہ ) ہے ۔
حدیث 2273 — صحيح مسلم 12:11
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ بن دینا ر نے سلیمان بن یسارسے انھوں نے عراک بن مالک سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے ذمے نہ اس کے غلام میں صدقہ ( زکاۃ ) ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں ۔
حدیث 2274 — صحيح مسلم 12:12
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، بْنُ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - قَالَ عَمْرٌو - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زُهَيْرٌ يَبْلُغُ بِهِ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عمرو الناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی انھوں نے کہا : ہمیں ایوب بن موسیٰ نے مکحول سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سلیمان بن یسار سے انھوں نے عراک بن مالک سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ۔ عمرو نے کہا : ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور زہیر نے کہا : انھوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا یا یعنی آپ سے بیان کیا ۔ ۔ ۔ " مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں صدقہ نہیں ۔
حدیث 2275 — صحيح مسلم 12:13
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، كُلُّهُمْ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
خثیم بن عراک بن مالک نے اپنے والد ( عراک بن ما لک ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حدیث 2276 — صحيح مسلم 12:14
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلاَّ صَدَقَةُ الْفِطْرِ ‏"‏ ‏.‏
مخرمہ نے اپنے والد ( بکیر بن عبد اللہ ) سے انھوں نے عراک بن مالک سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ آپ نے فر ما یا : " ( مالک پر ) غلام ( کے معاملے ) میں صدقہ فطر کے سوا کو ئی صدقہ نہیں ۔
حدیث 2277 — صحيح مسلم 12:15
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زکا ۃ کی وصولی کے لیے بھیجا تو ( بعد میں آپ سے ) کہا گیا کہ ابن جمیل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زکاۃ روک لی ہے ( نہیں دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ابن جمیل تو اس کے علاوہ کسی اور بات کا بدلہ نہیں لے رہا کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا رہے خالد تو تم ان پر زیادتی کر ہے ہو ۔ انھوں نے اپنی زر ہیں اور ہتھیا ر ( جنگی ساز و سامان ) اللہ کی را ہ میں وقف کر رکھے ہیں باقی رہے عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اتنی اس کے ساتھ اور بھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے عمر!کیا تمھیں معلوم نہیں ، انسان کا چچا اس کے باپ جیسا ہو تا ہے ؟ " ( ان کی زکاۃ تم مجھ سے طلب کر سکتے تھے ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔