حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلاَلٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَنَا فَيَظْلِمُونَنَا . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " . قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ .
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں محمد بن ابی اسماعیل نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمان ہلال بن عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : کچھ بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : کچھ زکاۃ وصول کرنے والے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کیاکرو ۔ "" حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے تو میرے پاس سے جو کوئی زکاۃ وصول کرنے والا گیا ، راضی گیا ۔
وکیع نے کہا : اعمش نے ہمیں معرور بن سوید کے حوالے سے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبےکےسائے میں تشریف فرما تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : " رب کعب کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ " کہا : میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ( ہی تھا ) اور اطمینان سے بیٹھا ہی نہ تھا کہ کھڑا ہوگیا اور میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان وہ کون لوگ ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ زیادہ مالدار لوگ ہیں ، سوائے اس کے جس نے ، اپنے آگے ، اپنے پیچھے ، اپنے دائیں ، اپنے بائیں ، ایسے ، ایسے اور ایسے کہا ( لے لو ، لے لو ) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ جو بھی اونٹوں ، گایوں یابکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اس طرح بڑی اور موٹی ہوکر آئیں گی جتنی زیادہ سےزیادہ تھیں ، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب بھی ان میں سے آخری گزر کر جائے گی ، پہلی اس ( کے سر ) پر واپس آجائے گی حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے معرور سےاور انھوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ۔ ۔ ۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے ، البتہ ( اس میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ ، گائےیا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی ۔
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیادسے اور انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لئے یہ بات خوشی کاباعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہوسوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لئے رکھ لوں ۔
حدیث 2303 — صحيح مسلم 12:40
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند ۔
اعمش نے زید بن وہب سے اور انھوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ( ایک رات ) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل ر ہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہوں!فرمایا : " مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ ( کوہ ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض ( کی ادائیگی ) کے لئے بچایا ہو ، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح ( خرچ ) کروں ۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا ۔ اس طرح ( خرچ ) کروں ۔ دائیں طرف سے ۔ ۔ ۔ اس طرح ۔ ۔ ۔ بائیں طرف سے ۔ ۔ ۔ " ( ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو زر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہوں!آپ نے فرمایا : " یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم ( مایہ ) ہوں گے ، مگر وہ جس نے اس طرح ، اس طرح اور اس طرح ( خرچ ) کیا ۔ " جس طرح آپ نے پہلی بار کیاتھا ۔ ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم پھر چلے ۔ آپ نے فرمایا : " ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا ۔ " کہا : آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز پیش آگئی ہے ، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کرلیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آگیا : " میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا " تو میں نے آپ کاانتظار کیا ، جب آپ و اپس تشریف لائے تو میں نے جو ( کچھ ) سنا تھا آپ کو بتایا ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ جبرائیل علیہ السلام تھے ، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کاجو فرد اس حال میں فوت ہوگا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتاتھا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے پوچھا : چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟انھوں نے کہا : چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انھوں نے ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک رات ( گھرسے ) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جارہے ہیں ، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کررہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے ، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا ، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا : " یہ کون ہے؟ " میں نے عرض کی : ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو زر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آجاؤ ۔ " کہا : میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا : " بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم ( مایہ ) ہوں گے ، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا : اور ا نھوں نے اسے دائیں ، بائیں اور آگے ، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کئے ۔ " میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں بیٹھ جاؤ ۔ " آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمھارے پاس لوٹ آؤں ۔ " آپ پتھریلے میدان ( حرے ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیرکردی ، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرمارہے تھے : " خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو ۔ " جب آپ تشریف لئے آئے تو میں صبر نہ کرسکا میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے!آپ سیاہ پتھروں کے میدان ( حرہ ) کے کنارے کس سے گفتگو فرمارہے تھے؟میں نے تو کسی کو نہیں سناجو آپ کو جواب دے رہا ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا : اپنی امت کو بشارت دے دیجئے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے کہا : اے جبرئیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟انھوں نےکہا : ہاں!فرمایا : میں نے پھر کہا : خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے پھر ( تیسری بار ) پوچھا : خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟انھوں نے کہا : ہاں ، خواہ اس نے شراب ( بھی ) پی ہو ۔
ابو علاء نے حضرت احنف بن قیس ؒسے روایت کی انھوں نے کہا : میں مدینہ آیا تو میں قریشی سر داروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں گٹھے ہو ئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ۔ مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہو ئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جا ئے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نو ک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جا ئے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جا ئے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جا ئے گا ۔ ( احنف نے ) کہا : اس پر لو گوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اسے کو ئی جواب دیا ہو کہا پھر وہ لو ٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ ( ٹیک لگا کر ) بیٹھ گیا میں نے کہا : آپ نے انھیں جو کچھ کہا ہے میں نے انھیں اس کو نا پسند کرتے ہو ئے ہی دیکھا ہے انھوں نے کہا : یہ لو گ کچھ سمجھتے نہیں میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا میں نے لبیک کہا تو آپ نے فر ما یا : " کیا تم احد ( پہاڑ ) کو دیکھتے ہو؟ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چا ہتے ہیں چنا نچہ میں نے عرض کی میں اسے دیکھ رہا ہوں تو آپ نے فر مایا : " میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پا س اس کے برا برا سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے ( سونے ) کو خرچ ( بھی ) کر ڈالوں ۔ پھر یہ لو گ ہیں دنیا جمع کرتے ہیں کچھ عقل نہیں کرتے ۔ میں نے ان سے پو چھا آپ کا اپنے ( حکمران ) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جا تے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں تمھا رے پرودیگار کا قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کو ئی چیز مانگوں گا نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پو چھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں ۔
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ؒ سے روایت کی انھوں نے کہا میں قریش کی ایک جماعت میں مو جو د تھا کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہو ئے گزرے : مال جمع کرنے والوں کو ( آگ کے ) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جا ئیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگا ئے جا ئیں گے اور ان کی پیشا بیوں سے نکلیں گے کہا : پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے میں نے پو چھا یہ صاحب کو ن ہیں ؟ لو گوں نے بتا یا یہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں میں اٹھ کر ان کے پا س چلا گیا اور پو چھا کیا با ت تھی تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے ؟انھوں نے جواب دیا میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ کہا میں نے پو چھا ( حکومت سے ملنے والے ) عطیے ( وظیفے ) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا اسے لے لو کیونکہ آ ج یہ معونت ( مدد ) سے اور جب یہ تمھا رے دین کی قیمت ٹھہریں تو انھیں چھوڑ دینا ۔