قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 578 — صحيح مسلم 2:45
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
حدیث 579 — صحيح مسلم 2:46
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ دِينَارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ ‏.‏ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ ‏"‏ ‏.‏
عمارہ بن غزیہ انصاری نےنعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوہریرہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتی کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ، اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ ہی روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
حدیث 580 — صحيح مسلم 2:47
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سےروایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئےیہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے ، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
حدیث 581 — صحيح مسلم 2:48
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ‏"‏ ‏.‏
مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘
حدیث 582 — صحيح مسلم 2:49
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرِدُ عَلَىَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلاَ يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلاَءِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
(مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘
حدیث 583 — صحيح مسلم 2:50
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ حَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَىَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے ، اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو ہٹاؤں گا ، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول ! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے ، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
حدیث 584 — صحيح مسلم 2:51
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى الْمَقْبُرَةَ فَقَالَ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَىْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلاَ يَعْرِفُ خَيْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَلاَ لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلاَ هَلُمَّ ‏.‏ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ‏.‏ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل ( بن جعفر ) نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہﷺقبرستان میں آئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں ، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو ( بھی ) دیکھا ہوتا ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے ۔ ‘ ‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ، جو ابھی ( دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے ( اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کےرسول! آپ نے فرمایا : ’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشروہوں گا ، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے ( کہیں اور کا ) بھٹکا ہوا اونٹ ( جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا ) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آوازدوں گا ، دیکھو! ادھر آ جاؤ ۔ تو کہاجائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد ( اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا ۔ تو میں کہوں گا : دور ہو جاؤ ، دور ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
حدیث 585 — صحيح مسلم 2:52
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، جَمِيعًا عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ ‏"‏ فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي ‏"‏ ‏.‏
(اسماعیل کے بجائے ) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے ، انہوں نے اپنےوالد عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو ، ہم بھی اگر اللہ نےچاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے ۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا ۔ ‘ ‘ ( الا ، یعنی خبردار کے بجائے ف ، یعنی ’تو ‘ کا لفظ ہے ۔)
حدیث 586 — صحيح مسلم 2:53
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ فَكَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّى تَبْلُغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ فَقَالَ يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَا هُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَا هُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ ‏"‏ ‏.‏
ابو حازم سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : میں ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا ، میں نے ان سے پوچھا : اے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا : اے فروخ کی اولاد ( اے بنی فارس ) ! تم یہاں ہو ؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا ۔ میں نے ا پنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سناتھا : ’’ مومن کازیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 587 — صحيح مسلم 2:54
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ایسی جیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کےر سول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : ’’ناگواریوں باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ( ہے ۔ ‘ ‘)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔