حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
عمارہ بن غزیہ انصاری نےنعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوہریرہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتی کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ، اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ ہی روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سےروایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئےیہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے ، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘
مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘
(مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے ، اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو ہٹاؤں گا ، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول ! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے ، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
اسماعیل ( بن جعفر ) نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہﷺقبرستان میں آئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں ، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو ( بھی ) دیکھا ہوتا ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے ۔ ‘ ‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ، جو ابھی ( دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے ( اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کےرسول! آپ نے فرمایا : ’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشروہوں گا ، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے ( کہیں اور کا ) بھٹکا ہوا اونٹ ( جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا ) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آوازدوں گا ، دیکھو! ادھر آ جاؤ ۔ تو کہاجائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد ( اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا ۔ تو میں کہوں گا : دور ہو جاؤ ، دور ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
(اسماعیل کے بجائے ) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے ، انہوں نے اپنےوالد عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو ، ہم بھی اگر اللہ نےچاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے ۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا ۔ ‘ ‘ ( الا ، یعنی خبردار کے بجائے ف ، یعنی ’تو ‘ کا لفظ ہے ۔)
ابو حازم سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا ، میں نے ان سے پوچھا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا : اے فروخ کی اولاد ( اے بنی فارس ) ! تم یہاں ہو ؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا ۔ میں نے ا پنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سناتھا : ’’ مومن کازیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا ۔ ‘ ‘
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ایسی جیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کےر سول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : ’’ناگواریوں باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ( ہے ۔ ‘ ‘)