قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2398 — صحيح مسلم 12:135
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے ( مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے ) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا ۔
حدیث 2399 — صحيح مسلم 12:136
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے ، کم ( اکھٹے ) کرلے یا زیادہ کرلے ۔
حدیث 2400 — صحيح مسلم 12:137
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ، أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنَ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ‏"‏ ‏.‏
بیان بن ابی بشر نے قیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کوئی شخص صبح کو نکلے اپنی پشت پر لکڑیاں اکھٹی کر لائےاور اس سے صدقہ کرے اور لوگوں ( کے عطیوں ) سے بے نیاز ہوجائے ، وہ اس سے بہترہے کہ کسی آدمی سے مانگے ، وہ ( چاہے تو ) اسےدے یا ( چاہے تو ) محروم رکھے ، بلاشبہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے اور ( خرچ کرے کی ) ابتدا ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو ۔
حدیث 2401 — صحيح مسلم 12:138
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ، أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَاللَّهِ لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ ‏.‏
اسماعیل نے کہا : مجھے قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہم حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم!تم میں سے ایک صبح کو نکلے ، اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لائے اور انھیں بیچے ۔ ۔ ۔ پھر بیان کی حدیث کے مانند حدیث سنائی ۔
حدیث 2402 — صحيح مسلم 12:139
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزادکردہ غلام ابو عبید سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی ایندھن کا گٹھا باندھے اور اپنی پیٹھ پرلادے ، اور بیچ دے ، اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے سوال کرے ، ( چاہے ) وہ اسے دے یا نہ دے ۔
حدیث 2403 — صحيح مسلم 12:140
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، - قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ - حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَىَّ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ‏"‏ وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلاَمَ نُبَايِعُكَ قَالَ ‏"‏ عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا - وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً - وَلاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ‏.‏
ابو مسلم خولانی سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھ سے ایک پیارے امانت دار ( شخص ) نے حدیث بیان کی وہ ایساہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے ۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ انھوں نے کہا : ہم نو ، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( حاضر ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟ " اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی ۔ تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ سے بیعت کرچکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ " ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ سے بیعت کرچکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : " تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟ " تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( ایک بار ) آپ سے بیعت کرچکے ہیں ، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگےاور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر ، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے ۔ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا ۔ اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ۔ " اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا کرجاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے ۔
حدیث 2404 — صحيح مسلم 12:141
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ، مُخَارِقٍ الْهِلاَلِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ ‏"‏ أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے ( لوگوں کے معاملات میں اصلاح کے لئے ) ادائیگی کی ایک ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا کہ آپ سے اس کے لئے کچھ مانگوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے تو ہم وہ تمھیں دے دینے کا حکم دیں ۔ " پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے قبیصہ!تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرناجائز نہیں : ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرلی ، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کرلے ، اس کے بعد ( سوال سے ) رک جائے ، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آپڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو ، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کرلے ۔ یا فرمایا : زندگی کی بقا کاسامان کرلے ۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہوگیا ، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہوجائیں ( اور کہہ دیں ) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہوگیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہوگیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کرلے ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کرلے ۔ ۔ ۔ اے قبیصہ!ان صورتوں کے سوا سوال کرناحرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے ۔
حدیث 2405 — صحيح مسلم 12:142
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا : کسی ایسے آدمی کو عنایت فرمادیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کردیا تو میں نے عرض کی : کسی ایسے فرد کو عطا کردیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے لے لو اور ایسا جو مال تمھارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ ۔
حدیث 2406 — صحيح مسلم 12:143
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - الْعَطَاءَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلاَ يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ ‏.‏
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کو لے لو اور اپنا مال بنالو یا اسے صدقہ کردو اور اس مال میں سے جو تمہار ےپاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو ( مال ) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ ۔ "" سالم نے کہا : اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انھیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے ۔
حدیث 2407 — صحيح مسلم 12:144
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
سائب بن یزید نے عبداللہ بن سعدی سے ، انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اسی کے مانند ) حدیث بیان کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔