ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ ) نے اپنے چچا سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ۔ اور اسی طرح حدیث بیان کی ، سوائے اس بات کےکہ انھوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں ( انصار ) نے کہا : ہم صبر کریں گے ۔ جس طرح یونس نے زہری سے روایت کی ۔
قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایااور پوچھا : " کیا تم میں تمھارے سواکوئی اور بھی ہے؟ " انھوں نے جواب دیا : نہیں ، ہمارے بھانجے کے سوا کوئی اور نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قوم کا بھانجا ان میں سے ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قریش تھوڑے دن قبل جاہلیت اور ( گمراہی ) کی مصیبت میں تھے اور میں نے چاہا کہ ان کو ( اسلام پر ) پکا کروں اور ان کی دلجوئی کروں ، کیا توم اس پر خوش نہیں ہوگے کہ لوگ دنیاواپس لے کرجائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔
ابوتیاح سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : جب مکہ فتح ہوگیااور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی ) غنیمتیں قریش میں تقسیم کیں تو انصار نے کہا : یہ بڑے تعجب کی بات ہے ، ہماری تلواروں سے ان لوگوں کے خون ٹپک رہے ہیں اور ہمارے اموال غنیمت انھی کو دیے جارہے ہیں!یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جمع کیا اور فرمایا : " وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " انھوں نے کہا : بات وہی ہے جو آ پ تک پہنچ چکی ہےوہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم ( اس پر ) خوش نہ ہوگے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کراپنے گھروں کو لوٹو ۔ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار د وسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔ " ( انصار سے بھی یہی توقع ہے ۔)
ہشام بن زید بن انس نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حنین کی جنگ ہوئی تو حوازن اور غطفان اور دوسرے لوگ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس روز دس ہزار ( اپنے ساتھی ) تھے اور وہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جنھیں ( فتح مکہ کے موقع پر غلام بنانے کی بجائے ) آزاد کیاگیا تھا ۔ یہ آپ کو چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے ، کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ( مہاجرین کے بعد انصار کو ) دودفعہ پکارا ، ان دونوں کو آپس میں زرہ برابر گڈ مڈ نہ کیا ، آپ دائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی : "" اے جماعت انصار! "" انھوں نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوجائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف متوجہ ہوئےاور فرمایا : "" اے جماعت انصار! "" انھوں نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوجائیے ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ آپ ( اس وقت ) سفید خچر پر سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا : "" میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ "" چنانچہ مشرک شکست کھا گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے بہت سے اموال حاصل کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ( فتح مکہ سے زرا قبل ) ہجرت کرنے والوں اور ( فتح مکہ کے موقع پر ) آزاد رکھے جانے والوں میں تقسیم کردیا اور انصارکو کچھ نہ دیا ، اس پر انصار نے کہا : جب سختی اورشدت کا موقع ہوتوہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور غنیمتیں دوسروں کو دی جاتی ہیں!یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی ، اس پر آپ نے انھیں سائبان میں جمع کیا اور فرمایا : "" اے انصار کی جماعت! وہ کیا بات ہے جو مجھے تمھارے بارے میں پہنچی ہے؟ "" وہ خاموش رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے انصار کی جماعت!کیا تم اس بات پر راضی نہ ہوگے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جمعیت میں شامل کرکے اپنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ ۔ "" وہ کہہ اٹھے : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( اس پر ) راضی ہیں ۔ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں ، تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا ۔ "" ہشام نے کہا میں نے پوچھا : ابوحمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ) آپ اس کے ( عینی ) شاہد تھے؟انھوں نے کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہوسکتاتھا ۔
سمیط نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے مکہ فتح کرلیا ، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی ، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کرکے ( مقابلہ میں ) آئے ۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی ، پھر جنگجوؤں ( لڑنے والوں ) کی ، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی ، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں ، پھر اونٹوں کی قطاریں ۔ کہا : اور ہم ( انصار ) بہت لوگ تھے ، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں ( مکہ کے نو مسلم ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازدی : " اے مہاجرین!اے مہاجرین! " پھر فرمایا : " اے انصار! اے انصار!کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ ( میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی ) جماعت کی روایت ہے ۔ کہا : ہم نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، اور ہم اللہ کی قسم!ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دو چار کردیا ، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کرلیا ، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا ، پھر ہم مکہ واپس آئے اوروہاں پڑاؤکیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سواونٹ ( کے حساب سے ) دینے کا آغاز فرمایا ۔ ۔ ۔ پھرحدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح ( اوپر کی روایات میں ) قتادہ ، ابو تیاح اور ہشام بن زیدکی روایت ہے ۔
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا : سفیان ( بن عینیہ ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سےحدیث بیان کی ، انہوں نےاپنے والد ( سعید بن مسروق ) سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب ، صفوان بن امیہ ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن جابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرد اس نے ( اشعار میں ) کہا : کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ ( بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان ) اور اقرع ( بن حابس رئیس تمیم ) کے درمیان قرار دیتے ہیں ، حالانکہ ( عینیہ کے پردادا ) بدر اور ( اقرع کے والد ) حابس کسی ( بڑوں کے ) مجمع میں ( میرے والد ) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قراردیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جاسکے گا ۔ کہا : اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کردیے ۔
(احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں ) سفیان ( بن عینیہ نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے غنائم تقیسم کیے تو ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سواونٹ دیے ۔ ۔ ۔ اورپچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی سو اونٹ دیئے ۔)
مخلد بن خالد شعیری نے کہا : ہمیں سفیان ( بن عینیہ ) نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عمر بن سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اس میں نہ علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا نہ صفوان بن امیہ کا اور نہ اپنی حدیث میں اشعار ہی ذکر کیے ۔
عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا ، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصودتھی ان کو ( بہت زیادہ ) عطافرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لیناچاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " ا ے گروہ انصار!کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں ہدایت نصیب فرمائی!اور تمھیں محتاج وضرورت مند نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے زریعے سےتمھیں غنی کردیا!کیا تمھیں منتشر نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں متحد کردیا! " ان سب نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھے جواب نہیں دو گے؟ " انھوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم بھی ، اگرچاہو توکہہ سکتے ہو ایساتھا ایساتھا اور معاملہ ایسے ہوا ، ایسےہوا " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےپاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلاچھوڑ دیاگیاتھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیاگیاتھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیاکیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کابوجھ تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی ) عمرو ( بن یحییٰ ) کا خیال ہے وہ انھیں یاد نہیں رکھ سکے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں ( شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں ، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں ) اور اگر ہجرت ( کا فرق ) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا ، بلاشبہ تم میرے بعد ( خود پر دوسروں کو ) ترجیح ملتی پاؤگے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو ۔
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حنین کی جنگ ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں ترجیح دی ۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ دیے ، عینیہ کو بھی اتنے ہی ( اونٹ ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھاگیا ہے ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی ۔ ( غصے سے ) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا! "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے!انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔ "" ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نےدل میں سوچا آئندہ کبھی ( اس قسم کی ) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا ۔