قاسم بن فضل حدانی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمانوں میں افتراق کے وقت تیزی سے ( اپنے ہدف کے اندر سے ) نکل جانےو الا ایک گروہ نکلے گا دو جماعتوں میں سے جو جماعت حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی ہوگی ، ( وہی ) اسے قتل کرے گی ۔
قتادہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت کے دو گروہ ہوں گے ان دونوں کےدرمیان سے ، دین میں سے تیزی سے باہر ہوجانے والے نکلیں گے ، انھیں وہ گروہ قتل کرے گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا ۔
حدیث 2460 — صحيح مسلم 12:197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِي فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ فَيَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
داود نے ابونضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں میں گروہ بندی کےوقت دین میں سے تیزی سے نکل جانے والا ایک فرقہ تیزی سے نکلے گا ۔ ان کے قتل کی ذمہ داری دونوں جماعتوں میں سے حق سے زیادہ تعلق رکھنےوالی جماعت پوری کرے گی ۔
ضحاک مشرقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو ( امت کے ) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی ، ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا ۔
وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سوید بن غفلہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا جب میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا ؤں تو یہ با ت کہ میں آسمان سے گرپڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کو ئی ایسی با ت منسوب کروں جو آپ نے نہیں فر ما ئی ۔ اورجب میں تم سے اس معاملے میں با ت کروں جو میرے اور تمھا رے درمیان ہے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ ) جنگ ایک چال ہے ( لیکن ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بصراحت یہ ) فر ما تے ہو ئے سنا : " عنقریب ( خلا فت راشدہ کے ) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لو گ کم عمر اور کم عقل ہو ں گے ( بظاہر ) مخلوق کی سب سے بہترین با ت کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیرتیزی سے شکار کے اندر سے نکل جا تا ہے جب تمھا را ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے ۔
اعمش سے جریر اور ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دو نوں کی حدیث میں " دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفا ظ نہیں ہیں ۔
ایو ب نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا : ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہو ئے گو شت کے ( جیسے ) ہاتھ والا ہو گا اگر تمھا رے اترا نے کا ڈر نہ ہو تا تو جو کچھ اللہ تعا لیٰ نے انھیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ فر ما یا ہے وہ میں تمھیں بتا تا ۔ ( عبیدہ نے ) کہا میں نے عرض کی : کیا آپ نے یہ ( وعدہ برا راست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ قسم !ہاں رب کعبہ کی قسم !ہاں
ابن عون نے محمد سے اور انھوں نے عبیدہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں تمھیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان ( علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ہے پھر انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایو ب کی حدیث کی طرح مرفو ع حدیث بیان کی ۔
سلمہ بن کہیل نے کہا : مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنا ئی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا ( اور ) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لو گو !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : "" میری امت سے کچھ لو گ نکلیں گے وہ ( اس طرح ) قرآن پڑھیں گے کہ تمھا ری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمھا ری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمھا رے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی ۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حا لا نکہ وہ ان کے خلا ف ہو گا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیزرفتا ری کے ساتھ اسلام سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکا ر کے اندر سے نکل جا تا ہے ۔ : "" اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جا ن لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے ( بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر ) بھروسا کر لیں ۔ اس ( گروہ ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا عضد ( بازو ، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ ) ہو گا کلا ئی نہیں ہو گی اس کے بازو کے سر ے پر پستان کی نو ک کی طرح ( کا نشان ) ہو گا جس پر سفید بال ہوں گے تو لو گ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان ( لوگوں ) کو چھوڑرہے ہو جو تمھا رے بعد تمھا رے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم!مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انھوں نے ( مسلمانوں کا ) حرمت والا خون بہا یا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گر ی کی ہے اللہ کا نا م لے کر ( ان کی طرف ) چلو ۔ سلمہ بن کہیل نے کہا : مجھے زید بن وہب نے ( ایک ایک ) منزل میں اتارا ( ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے ) بتا یا حتیٰ کے بتا یا : ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبد اللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا : اپنے نیزے پھنیک دو اور اپنی تلواریں نیا موں سے نکا ل لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمھا رے سامنے ( صلح کے لیے اللہ کا نا م ) پکا ریں گے جس طرح انھوں نے خروراء کے دن تمھا رے سامنے پکا را تھا تو انھوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دو ر پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لو گ انھی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہو ئے ( ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلو ں پر گرتا ) اور اس روز ( علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دینے والے ) لو گوں میں سے دو کے سوا کو ئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلا ش کرو لو گوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اٹھے اور ان لو گوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہو ئے تھے آپ نے فر ما یا : ان کو ہٹاؤ تو انھوں نے اسے ( لا شوں کے نیچے ) زمین سے لگا ہوا پا یا ۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا : اللہ نے سچ فر ما یا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی طرح ہم تک ) پہنچا دیا ۔ ( زید بن وہب نے ) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہو ئے اور کہا اے امیر المومنین ! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں !آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انھوں نے کہا : ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں !حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے ۔