قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2518 — صحيح مسلم 13:24
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ، بْنِ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
حدیث 2519 — صحيح مسلم 13:25
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ، مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
۔ معاویہ ، ابن سلام ، ابن مثنی ، ابو عامر ، ہشام ، ابن مثنی ، ابن ابی عمر ، عبدالوہاب بن عبدالمجید ، ایوب ، ذہیر بن حرب ، حسین بن محمد ، شیبان ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
حدیث 2520 — صحيح مسلم 13:26
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْسَمَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا - قَالَ الزُّهْرِيُّ - فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَتْ بَدَأَ بِي - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏ ‏.‏
معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ا پنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ۔ انھوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ۔ ( باریوں کا ) آغاز مجھ سے فرمایا میؔت نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نےقسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئے گے ۔ اور آ‎پ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں ، میں گنتی رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
حدیث 2521 — صحيح مسلم 13:27
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْنَا إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الشَّهْرُ ‏"‏ ‏.‏ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الآخِرَةِ ‏.‏
لیث ، ابن زبیر ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرمالیا ۔ ( اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے)
حدیث 2522 — صحيح مسلم 13:28
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ ثَلاَثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا ‏.‏
ابن جریج ، ابو زبیر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ
حدیث 2523 — صحيح مسلم 13:29
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ - أَوْ رَاحَ - فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
حجاج بن محمد ، ابن جریج ، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی ، عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے
حدیث 2524 — صحيح مسلم 13:30
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
ضحاک ، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
حدیث 2525 — صحيح مسلم 13:31
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، - رضى الله عنه - قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى فَقَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا ‏.‏
محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
حدیث 2526 — صحيح مسلم 13:32
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً ‏.‏
زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
حدیث 2527 — صحيح مسلم 13:33
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ، بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا ‏.‏
۔ عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔