یحییٰ بن یحییٰ ، ابو کریب ، ابن نمیر ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، ابن نمیر ، ابو کریب ، اسامہ ، ہشام ، عروہ ، عاصم ، ابن عمر ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلیناچاہیے ۔ ابن نمیر نے فقد ( حقیقتاً ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
حدیث 2559 — صحيح مسلم 13:65
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي أَوْفَى - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ " يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا . قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ " إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
ہشیم ، ابی اسحاق شیبانی ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!اتر اور ہمارے لئے ستو ملااس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابھی تو دن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو پیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو افطار کرلیناچاہیے ۔ ( اس کا روزہ ختم ہوچکا)
علی بن مسہر ، عباد بن عوام ، شیبانی ، حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے ایک آدمی سے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ شام ہونے دیں؟تو آپ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ نے ستو پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے اور آپ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہیے ۔
حدیث 2561 — صحيح مسلم 13:67
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى - رضى الله عنه - يَقُولُ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ " يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " . مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ .
ابوکامل ، عبدالواحد ، سلیمان شیبانی ، حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے ۔
ابن ابی عمر ، سفیان ، اسحاق ، جریر ، شیبانی ، ابن ابی اوفیٰ ، عبیداللہ بن معاذ ، ابن مثنی ، محمد بن جعفر ، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے ۔
حدیث 2563 — صحيح مسلم 13:69
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ . قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
یحییٰ بن یحییٰ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وصال فرمایا ( یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے ) لہذا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی وصال شروع کردیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا ۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وہ وصال کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایاجاتا ہے ۔
حدیث 2565 — صحيح مسلم 13:71
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ .
عبدالوارث بن عبدالصمد ، ایوب ، نافع ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کالفظ نہیں ۔
حدیث 2566 — صحيح مسلم 13:72
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " . فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلاَلُ لَزِدْتُكُمْ " . كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے میری طرح کون ہے؟میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھ کھلاتا اورپلاتاہے ۔ جب اس کے باوجود صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطارکے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا کہ اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ۔
زہیر بن حرب ، اسحاق ، زہیر ، جریر ، عمارہ ، ابی زرعہ ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایاکہ تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہوکیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو ۔