قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 598 — صحيح مسلم 2:65
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الاِخْتِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ ‏"‏ ‏.‏
مجھے یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ ( خصائل ) فطرت پانچ ہیں : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، مونچھ کترنا ، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔ ‘ ‘
حدیث 599 — صحيح مسلم 2:66
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَنَتْفِ الإِبْطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لاَ نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ‏.‏
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمارے لیے مونچھیں کترنے ، ناخن تراشنے ، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سےزیادہ نہ چھوڑیں ۔
حدیث 600 — صحيح مسلم 2:67
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى ‏"‏ ‏.‏
عبید اللہ نےنافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ
حدیث 601 — صحيح مسلم 2:68
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ ‏.‏
ابو بکر بن نافع نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺروایت کی کہ آپ نے مونچھیں اچھی طرح تراشنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ۔
حدیث 602 — صحيح مسلم 2:69
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحَى ‏"‏ ‏.‏
عمر بن محمد نے نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ ‘ ‘
حدیث 603 — صحيح مسلم 2:70
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مونچھیں اچھی طرح کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ ، مجوس کی مخالفت کرو ۔ ‘ ‘
حدیث 604 — صحيح مسلم 2:71
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَكَرِيَّاءُ قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ ‏.‏ زَادَ قُتَيْبَةُ قَالَ وَكِيعٌ انْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الاِسْتِنْجَاءَ ‏.‏
قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ او رزہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے ، انہوں نے طلق بن حبیب سے ، انہوں نے عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دس چیزیں ( خصائل ) فطرت میں سے ہیں : مونچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسوک کرنا ، ناک میں پانی کھینچنا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا ، پانی سے استنجا کرنا ۔ ‘ ‘ زکریا نے کہا : مصعب نے بتایا : دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے ۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا : انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں ۔
حدیث 605 — صحيح مسلم 2:72
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُوهُ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ ‏.‏
ابو کریب نے بیان کیا ، ہمیں ابو زائدہ کے بیٹے نے اپنے والد ( ابو زائدہ ) سے خبر دی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ، البتہ ابن ابی زائدہ نےکہا : ان کے والد نے کہا : میں دسویں بات بھول گیا ہوں
حدیث 606 — صحيح مسلم 2:73
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قِيلَ لَهُ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَجَلْ لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ‏.‏
اعمش کے دوشاگرد وکیع اور ابو معاویہ كی سندوں سے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ( اور یہ الفاظ ابو معاویہ کےشاگردیحییٰ بن یحییٰ کے ہیں ) کہ ان ( سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے ( طنزاً ) کہا گیا : تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت ( کےطریقے ) کی بھی ۔ کہا : انہوں نے جواب دیا : ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یاہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں ۔
حدیث 607 — صحيح مسلم 2:74
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ ‏"‏ ‏.‏
اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے ، ان دونوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مشرکوں نے ہم سے کہا : میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی ( ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے ۔ تو سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہاں ، انہوں ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی ( سے استنجاکرنے ) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔