قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2598 — صحيح مسلم 13:104
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
محمد بن رافع ، اسحا ق بن عیسیٰ ، مالک ، حضرت زہری سے اس سندکے ساتھ روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا تو ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایاکہ ایک غلام آزاد کرکے کفارہ ادا کرے پھر ابن عینیہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی ۔
حدیث 2599 — صحيح مسلم 13:105
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏.‏
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، ابن شہاب ، حمید بن عبدالرحمان ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔
حدیث 2600 — صحيح مسلم 13:106
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
معمرنے زہری سےاسی سندکے ساتھ ابن عینیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
حدیث 2601 — صحيح مسلم 13:107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ احْتَرَقْتُ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ ‏.‏
محمد بن رمح ، ابن مہاجر ، لیث ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر ، ابن زبیر ، عباد بن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کر ، صدقہ کر ، اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا کہ اس کو صدقہ کرو ۔
حدیث 2602 — صحيح مسلم 13:108
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ ‏ "‏ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏ وَلاَ قَوْلُهُ نَهَارًا ‏.‏
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ثقفی ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے ۔
حدیث 2603 — صحيح مسلم 13:109
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ ‏.‏ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا شَأْنُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لِي شَىْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن لیث ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبادبن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرتو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم!اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں ر کھتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپناگدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہواتھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے؟وہ آدمی کھڑا ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کو صدقہ کر تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے علاوہ بھی ( کوئی صدقہ کا مستحق ہے ) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہی اسے کھالو ۔
حدیث 2604 — صحيح مسلم 13:110
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح ، لیث ، قتیبہ ، بن سعید ، ابن شہاب ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار کرلیا ۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیاکرتے تھے ۔
حدیث 2605 — صحيح مسلم 13:111
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ سُفْيَانُ لاَ أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
یحییٰ بن یحیٰ ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمر ، اسحاق بن ابراہیم ، سفیان ، حضرت زہری ، سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول کو لیا جاتا تھا؟
حدیث 2606 — صحيح مسلم 13:112
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الأَمْرَيْنِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالآخِرِ فَالآخِرِ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ لِثَلاَثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ‏.‏
۔ محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایاجاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے ۔
حدیث 2607 — صحيح مسلم 13:113
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ ‏.‏
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سےلیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔