قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2688 — صحيح مسلم 13:194
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
اسحاق بن ابراہیم ، بشر بن عمر زہرانی ، سلیمان بن بلال ، یحییٰ حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشغول رہتی تھی ۔
حدیث 2689 — صحيح مسلم 13:195
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ يَحْيَى يَقُولُهُ ‏.‏
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، یحییٰ بن سعید ، نے اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے ہوتی تھی ۔ یہ بات یحیٰ کہتے ہیں
حدیث 2690 — صحيح مسلم 13:196
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ، عمروناقد ، سفیان ، حضرت یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی ۔
حدیث 2691 — صحيح مسلم 13:197
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ ‏.‏
محمد بن ابی عمر مکی ، عبدالعزیز بن محمد دراوردی ، یزید بن عبداللہ بن ہاد ، محمد بن ابراہیم ، ابی سلمہ بن عبدالرحمان ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کرلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے یہاں تک کہ شعبان آجاتا ۔
حدیث 2692 — صحيح مسلم 13:198
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ‏"‏ ‏.‏
ہارون بن سعید ، احمد بن عیسیٰ ، ابن وہب ، عمر وبن حارث ، عبیداللہ بن ابی جعفر ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عروۃ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی انتقال کرجائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کاوارث اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
حدیث 2693 — صحيح مسلم 13:199
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ‏"‏ ‏.‏
اسحاق بن ابراہیم ، عیسیٰ بن یونس ، اعمش ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینےکے روزے لازم ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے ۔
حدیث 2694 — صحيح مسلم 13:200
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ ‏"‏ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالاَ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏.‏
۔ احمد بن عمر وکیعی ، حسین بن علی ، زائدہ ، سلیمان ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیری ما ں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟عرض کیا کہ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے اداکیا جائے ۔
حدیث 2695 — صحيح مسلم 13:201
وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ كُهَيْلٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
ابو سعید اشج ، ابو خالد ، اعمش ، سلمہ بن کہیل ، حکم بن عتیبہ ، مسلم بن جبیر ، مجاہد ، وعطاء ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا ۔
حدیث 2696 — صحيح مسلم 13:202
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ زَكَرِيَّاءَ، بْنِ عَدِيٍّ - قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ، بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ ‏"‏ ‏.‏
اسحاق بن منصور ، ابن ابی خلف ، عبد بن حمید ، زکریا بن عدی ، عبیداللہ بن عمرو ، زید بن ابی انیسہ ، حکم بن عتیبہ ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے؟کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے آپ نے فرمایاکہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ ۔
حدیث 2697 — صحيح مسلم 13:203
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ - قَالَ - فَقَالَ ‏"‏ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ صُومِي عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ حُجِّي عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہر ، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ، کہا : ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا : میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ ( والدہ ) فوت ہوگئی ہیں ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا اجر پکا ہوگیا ۔ اور و راثت نے وہ ( لونڈی ) تمھیں لوٹادی ۔ " اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے ذمے ا یک ماہ کےروزے تھے ، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے روزے رکھو " ۔ اس نے پوچھا : انھوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے حج کرو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔