قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2738 — صحيح مسلم 13:244
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ لِعَيْنِكَ حَقٌّ وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلأَهْلِكَ حَقٌّ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عینیہ نے عمر و سے ، انھوں نے ابوعباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : " کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ " میں نے عرض کی : میں یہ کام کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم یہ کام کرو گے تو ( اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ ) تمھاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی ۔ اور تمھاری جان کمزورہوجائے گی ۔ تم پر تمھاری آنکھ کا حق ہے ۔ تمھاری اپنی ذات کا حق ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کاحق ہے ۔ قیام کرو اورنیند بھی لو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی ۔
حدیث 2739 — صحيح مسلم 13:245
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبَّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
حدیث 2740 — صحيح مسلم 13:246
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلاَةُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ ) خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سوجاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعدرات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔ "" حدیث نمبر ۔ میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینارسے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے : "" وہ آدھی رات کے بعد رات کاتہائی حصہ قیام کرتے تھے؟ "" انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
حدیث 2741 — صحيح مسلم 13:247
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَىَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَمْسًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبْعًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تِسْعًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَحَدَ عَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو قلابہ ( بن زید بن عامر الجرمی البصری ) نے کہا : مجھے ابوملیح نے خبر دی ، کہا : میں تمھارے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو انھوں نے ہمیں حدیث سنائی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کاذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کاایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکہہ میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " کیا تمھیں ہر مہینے میں سے تین دن ( کے روزے ) کافی نہیں؟ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نو ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گیارہ ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی ر وزے نہیں ہیں ، آدھا زمانہ ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا ۔
حدیث 2742 — صحيح مسلم 13:248
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
زیاد بن فیاض سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابو عیاض سے سنا ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا : " ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جوباقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دودن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین دن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " چاردن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والے روزے ، یعنی داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔
حدیث 2743 — صحيح مسلم 13:249
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، - حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا صُمْ وَأَفْطِرْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ ‏.‏
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کاروزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پرتمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرناضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔ "" وہ کہا کرتے تھے : کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔
حدیث 2744 — صحيح مسلم 13:250
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا مِنْ أَىِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَىِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ ‏.‏
سیدہ معاذہ العدویہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ پھر پوچھا کہ کن دنوں میں ( روزے رکھتے تھے؟ ) انہوں نے کہا کہ کچھ پرواہ نہ کرتے ، کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے ۔
حدیث 2745 — صحيح مسلم 13:251
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّصلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ ‏"‏ يَا فُلاَنُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ۔ یاکسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے : ۔ " اےفلاں!کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟ " اس نے جواب دیا نہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تو جب ( رمضان مکمل کرکے ) روزے ترک کروتو ( ہرمہینے ) دو دن کے روزے رکھتے رہو ۔
حدیث 2746 — صحيح مسلم 13:252
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ - رضى الله عنه - غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ‏.‏ فَجَعَلَ عُمَرُ - رضى الله عنه - يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلاَمَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ - أَوْ قَالَ - لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ‏"‏ وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ‏"‏ ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ ‏"‏ وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثَلاَثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ‏"‏ ‏.‏
حماد نے غیلان سے ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے اورانھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں ، ہم اللہ کے غصے سے اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ، توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر ( مسلسل ) روزہ رکھتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطارکیا ۔ " یا فرمایا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا اس نے افطار نہیں کیا ۔ " کہا : اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیاکوئی اس کی طاقت رکھتاہے؟ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور دو دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان ( کے روزوں ) سے ( لے کردوسرے ) رمضان ( کے روزے ) یہ ( عمل ) سارے سال کے روزوں ( کے برابر ) ہے ۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کاکفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی اور یوم عاشورہ کاروزہ ، میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔
حدیث 2747 — صحيح مسلم 13:253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ‏.‏ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ ‏"‏ لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ صَوْمُ ثَلاَثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ ‏"‏ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نَرَاهُ وَهْمًا ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نارض ہوگئے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے ، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں ۔ ( جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ۔ ) کہا : اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے ( صیام الدھر ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔ "" اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی طاقت کون رکھتاہے؟ "" کہا : اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی ۔ "" کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ "" کہا : اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔ "" کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بن جاتا ہے ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتاہے ۔ "" امام مسلمؒ نے کہا : اس حدیث میں شعبہ کی روایت ( یوں ) ہے : انھوں ( ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے ، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ( راوی کا ) وہم ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔