قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 618 — صحيح مسلم 2:85
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم دو سخت لعنت والے کاموں سے بچو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !سخت لعنت والے وہ دو کام کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’جو انسان لوگوں کی گزرگاہ میں یا ان کی سایہ دار جگہ میں ( جہاں وہ آرام کرتے ہیں ) قضائے حاجت کرتا ہے ( لوگ ان دونوں کاموں پر اس کو سخت برا بھلا کہتے ہیں ۔ ) ‘ ‘
حدیث 619 — صحيح مسلم 2:86
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلاَمٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتَهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ ‏.‏
خالد ( ھذاء ) نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا ، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا ، اس نے اسے ایک بیری کےدرخت کے پاس رکھ دیا ، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے ۔
حدیث 620 — صحيح مسلم 2:87
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ الْخَلاَءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ‏.‏
دو مختلف سندوں سے شعبہ سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے خالی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاتے ( اور دور تک آپ کا ساتھ دیتے ) اور آپ پانی سے استنجا کرتے ۔
حدیث 621 — صحيح مسلم 2:88
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَغَسَّلُ بِهِ ‏.‏
(شعبہ کے بجائے ) روح بن قاسم کی سند سے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کےلیے کھلی جگہ تشریف لے جاتے تو میں آپ کے لیے پانی لے جاتا ، آپ اس سے استنجا کرتے
حدیث 622 — صحيح مسلم 2:89
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ بَالَ جَرِيرٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ تَفْعَلُ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ كَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لأَنَّ إِسْلاَمَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہون نے ہمام سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر ( بن عبد اللہ البجلی ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا تو ان سے کہاگیا : آپ یہ کرتے ہیں ؟ انہوں نےجواب دیا : ہاں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ اعمش نے کہا : ابراہیم نے بتایا کہ لوگوں ( ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےشاگردوں ) کو یہ حدیث بہت پسند تھی کیونکہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔ ( سورہ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی تھی ۔ اور آپ کا یہ عمل اس کے بعد کا تھا جو آیت سے منسوخ نہیں ہوا تھا)
حدیث 623 — صحيح مسلم 2:90
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ عِيسَى وَسُفْيَانَ قَالَ فَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لأَنَّ إِسْلاَمَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏
(ابو معاویہ کے بجائے ) اعمش کے دیگر متعدد شاگردوں عیسیٰ بن یونس ، سفیان اور ابن مسہر نے بھی ابو معاویہ سے حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ عیسیٰ اور سفیان کی حدیث میں ہے ، ( ابراہیم نخعی نے ) کہا : عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کے شاگردوں کو یہ حدیث بہت پسندتھی کیونکہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سورۂ مائدہ کے اترنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔
حدیث 624 — صحيح مسلم 2:91
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ فَقَالَ ‏ "‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏
اعمش نے شقیق سےاور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ ایک خاندان کو کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو میں دور ہٹ گیا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ قریب آ جاؤ ۔ ‘ ‘ میں قریب ہو کر ( دوسری طرف رخ کر کے ) آپ کےپیچھے کھڑا ہو گیا ( فراغت کے بعد ) آپ نےوضو کیا اورموزوں پر مسح کیا ۔ ( قریب کھڑا کرنے کامقصد اس کی)
حدیث 625 — صحيح مسلم 2:92
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ ‏.‏ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لاَ يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَتَمَاشَى فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ ‏.‏
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے روایت کی ، انہوں نےکہاکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے : بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنےحصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا ۔ تو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب ( استاد ) اس قدر سختی نہ کرے ، میں اور رسول اللہ ﷺساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پرآئے ، آپ اس طرح کھڑےہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے ، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا ، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتی کہ آپ فارغ ہو گئے ۔
حدیث 626 — صحيح مسلم 2:93
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ مَكَانَ حِينَ حَتَّى ‏.‏
مغیرہ ‌بن ‌شعبہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌اپنے ‌كام ‌كو ‌نكلے ‌ان ‌كی ‌پیچھے ‌مغیرہ ‌پانی ‌كا ‌ڈول ‌لے ‌كر ‌گۓ ‌اور ‌آپ ‌جب ‌حاجت ‌سے ‌فارغ ‌ہوۓ ‌تو ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ( ‌یعنی ‌وضو ‌كے ‌وقت ‌ ) پھر ‌وضو ‌كیا ‌اور ‌مسح ‌كیا ‌موزوں ‌پر ‌. ‌ابن ‌رمح ‌كی ‌روایت ‌میں ‌یوں ‌ہے ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ‌یہاں ‌تك ‌كہ ‌آپ ‌فارغ ‌ہوےء ‌حاجت ‌سے ( ‌یعنی ‌وضو ‌سے ‌)
حدیث 627 — صحيح مسلم 2:94
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏
یحییٰ بن سعید کےایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا : آپﷺنے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، اپنے سر کامسح کیا ، پھر موزوں پر مسح کیا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔