قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2808 — صحيح مسلم 15:19
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - ثُمَّ، انْتَهَى فَقَالَ أُرَاهُ يَعْنِي - النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
روح بن عبادہ نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پو چھا جا رہا تھا تو انھوں نے کہا : میں نے سنا پھر رک گئے اور ( کچھ وقفے کے بعد ) کہا : ان ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے سنا)
حدیث 2809 — صحيح مسلم 15:20
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - أَحْسِبُهُ، رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ ‏ "‏ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏ ‏.‏
سفیا ن نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن منا زل سے احرا م باندھیں ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے بتا یا گیا ۔ ۔ ۔ میں نے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا یمن والے یلملم سے احرام باندھیں ۔
حدیث 2810 — صحيح مسلم #2810
محمد بن بکر سے روایت ہے کہا مجھے ابن جریج نے خبر دی ، کہا مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے مقام تلبیہ کے متعلق سوال کیا گیا تھا ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا میں نے سنا ۔ ۔ ۔ میرا خیا ل ہے کہ انھوں نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ۔ آپ نے فر ما یا : " مدینہ والوں کا مقام تلبیہ ( احرام باندھنے کی جگہ ) ذوالحلیفہ ہے اور دوسرے راستے ( سے آنے والوں کا مقام ) جحفہ ہے ۔ اہل عراق کا مقام تلبیہ ذات عر ق نجد والوں کا قرن ( منازل ) اور یمن والوں کا یلملم ہے ۔
حدیث 2811 — صحيح مسلم 15:21
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا میں نے مالک کے سامنے ( اس حدیث کی ) قراءت کی انھوں نے نافع سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ ! تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضر ہوں یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ۔ ( کسی بھی چیز میں ) تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ اور ( نافع نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ( مذکورہ تلبیہ ) میں یہ اضا فہ فر ما یا کرتے تھے ۔ "" لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" میں تیر ے سامنے حاجر ہوں حاضر ہوں تیری اطا عت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری ہی رضا کے لیے ہیں)
حدیث 2812 — صحيح مسلم 15:22
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَنَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ فَقَالَ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ - رضى الله عنه - يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبد اللہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جا تی تو آپ تلبیہ پکا رتے اور کہتے : "" میں بار بار حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضرہوں یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ( کسی بھی چیز میں تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ ( سالم نا فع اور حمزہ نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے ۔ نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( مذکورہ بالا ) کلما ت کے ساتھ ان الفاظ کاا ضافہ کرتے : "" میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری رضا کے لیے ہیں)
حدیث 2813 — صحيح مسلم 15:23
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
عبید اللہ ( بن عمربن حفص العدوی المدنی ) نے کہا مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یا د کر لیا پھر سالم نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیا ن کی ۔
حدیث 2814 — صحيح مسلم 15:24
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ لاَ يَزِيدُ عَلَى هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ‏.‏ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - يُهِلُّ بِإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏
ابن شہاب نے کہا : بلا شبہ سالم بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکا رتے سنا کہ آپ کے بال جڑے ( گوندیا خطمی بو ٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے ) ہو ئے تھے آپ کہہ رہے تھے ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَان کلما ت پر اضا فہ نہیں فر ما تے تھے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما یا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ان کلما ت سے تلبیہ پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کلما ت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکا رتے تھے اور ( ساتھ یہ ) کہتے : : لبيك اللهم لبيك لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" : "" میں با ر بار حاضر ہوں ، اے اللہ !میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری طرف سے سعادتوں کا طلب گا ر ہوں ہر قسم کی بھلا ئی تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ہر دم تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے ۔
حدیث 2815 — صحيح مسلم 15:25
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ ‏"‏ ‏.‏ فَيَقُولُونَ إِلاَّ شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ‏.‏ يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
حضرت عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا مشر کین کہا کرتے تھے ہم حاضر ہیں ۔ تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " تمھا ری بر بادی ! بس کرو بس کرو ( یہیں پر رک جا ؤ ) مگر وہ آگے کہتے : مگر ایک ہے شریک جو تمھا را ہے تم اس کے مالک ہو ، وہ مالک نہیں وہ لو گ بیت اللہ کا طواف کرتے ہو ئے یہی کہتے تھے ۔
حدیث 2816 — صحيح مسلم 15:26
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، - رضى الله عنه - يَقُولُ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا میں نے مالک کے سامنے قراءت کی انھوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا انھوں نے فر ما یا : یہ تمھا را چٹیل میدا ن بيداءوہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیا نی کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب ( یعنی ذوالحلیفہ ) ہی سے احرا م باندھا تھا ۔
حدیث 2817 — صحيح مسلم 15:27
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ، عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - إِذَا قِيلَ لَهُ الإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ ‏.‏
حاتم یعنی ابن اسماعیل نے مو سیٰ بن عقبہ سے انھوں نے سالم سے حدیث بیان کی کہا : جب ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا جا تا کہ احرا م بیدا ء سے ( باند ھا جا تا ) ہے تو وہ کہتے پیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیا نی کرتے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں درخت کے پاس ہی سے احرا م باندھا تھا ۔ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔