قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2888 — صحيح مسلم 15:98
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، رَمِدَتْ عَيْنُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَكْحُلَهَا، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ ‏.‏
ہمیں عبد الصمد بن عبد الوارث نے خبر دی کہا : مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا : مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ ( ایک بار احرا م کی حالت میں ) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انھوں نے ان میں سر مہ لگا نے کا ارادہ فر ما یا تو ابان بن عثمان نے انھیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا پیپ کر لیں ۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا ۔
حدیث 2889 — صحيح مسلم 15:99
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ‏.‏ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ‏.‏ فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ - قَالَ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ - رضى الله عنه - يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ اصْبُبْ ‏.‏ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن حنین ) سے انھوں نے عبد اللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابو اء کے مقام پر ان دونوں کے در میان اختلا ف ہوا ۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ( عبد اللہ بن حنین کو ) ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے ( اس کے بارے میں ) مسئلہ پوچھوں ( جب میں ان کے پاس پہنچا تو ) انھیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے در میان ( جو کنویں سے فاصلے پر لگا ئی جا تی تھیں اور ان پر لگی ہو ئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جا تا تھا ) غسل کرتے ہو ئے پایا ۔ ( عبد اللہ بن حنین نے ) کہا : میں نے انھیں سلام کہا : وہ بو لے : یہ کون ( آیا ) ہے؟میں نے عرض کی : میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں اپ سے پو چھوں : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م کی حا لت میں اپنا سر کیسے دھو یا کرتے تھے ؟ ( میری بات سن کر ) حضرت ابو اءایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتی کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا : پانی ڈا لو ۔ اس نے آپ کے سر پر پا نی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے ۔ پھر کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہو ئے دیکھا تھا ۔
حدیث 2890 — صحيح مسلم 15:100
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لاَ أُمَارِيكَ أَبَدًا ‏.‏
ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ ابواء ایوب نے اپنے دو نوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیر اانھیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا ۔
حدیث 2891 — صحيح مسلم 15:101
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ فَقَالَ ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینا ر ) سے ( انھوں نے ) سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا ۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فو ت ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں ( احرا م کی دو نوں چادروں ) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھا ئے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حدیث 2892 — صحيح مسلم #2892
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ - قَالَ أَيُّوبُ فَأَوْقَصَتْهُ أَوْ قَالَ - فَأَقْعَصَتْهُ وَقَالَ عَمْرٌو فَوَقَصَتْهُ - فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ - قَالَ أَيُّوبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ عَمْرٌو - فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ‏.‏
حماد نے عمرو بن دینا ر اور ایوب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گرگیا ایوب نے کہا اس کی سوری نے اس کی گردن تو ڈالی ۔ ۔ ۔ یا کہا : اسے اسی وقت مار ڈالا ۔ ۔ ۔ اور عمرو نے فوقصته کہا ( اس کی گردن کا منکا توڑ دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی تو فر مایا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھا نپو ۔ ایوب نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھا ئے گا ۔ اور عمرو نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اٹھا ئے گا ۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حدیث 2893 — صحيح مسلم #2893
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ - قَالَ أَيُّوبُ فَأَوْقَصَتْهُ أَوْ قَالَ - فَأَقْعَصَتْهُ وَقَالَ عَمْرٌو فَوَقَصَتْهُ - فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ - قَالَ أَيُّوبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ عَمْرٌو - فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ‏.‏
حماد نے عمرو بن دینا ر اور ایوب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گرگیا ایوب نے کہا اس کی سوری نے اس کی گردن تو ڈالی ۔ ۔ ۔ یا کہا : اسے اسی وقت مار ڈالا ۔ ۔ ۔ اور عمرو نے فوقصته کہا ( اس کی گردن کا منکا توڑ دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی تو فر مایا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھا نپو ۔ ایوب نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھا ئے گا ۔ اور عمرو نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اٹھا ئے گا ۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حدیث 2894 — صحيح مسلم 15:103
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏
ہمیں عیسیٰ بن یو نس نے خبر دی کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینا ر نے سعید بن جبیر سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فر ما یا : ایک شکص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا ( اس سے ) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو ۔ اس کے اپنے ( احرام کے ) دو کپڑے پہنا ؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلا شبہ وہ قیامت کے روز آئے گا ۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حدیث 2895 — صحيح مسلم 15:104
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ ‏.‏
محمد بن بکر برسانی نے کہا : ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انھیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی ۔ کہا : ایک شخص احرا م کی حا لت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ۔ ( آگے اسی کے مانند ہے مگر ( محمد بن بکر نے ) کہا بلا شبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا ۔
حدیث 2896 — صحيح مسلم 15:105
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلاَ وَجْهَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرا م کی حا لت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے ( احرا م کے ) دو کپڑوں میں کفنا دو اس کاسر اور چہرہ نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکار تا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔
حدیث 2897 — صحيح مسلم 15:106
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما ح . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ رَجُلاً، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ‏"‏ ‏.‏
ہمیں ابو بشر نے حدیث سنائی کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انھوں نے حضر ت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن تو ڑدی اور وہ فوت ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں ( احرا م کی دو چادروں ) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلا شبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس کے بال چپکے ہو ئے ہوں گے ۔ ( جس طرح موت کے وقت احرام کی حا لت میں تھے)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔