وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ . وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان فر مائی : کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج میں ) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا ( کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق ) ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہہ دیا ۔
حدیث 2979 — صحيح مسلم #2979
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ . وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنه - بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان فر مائی : کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج میں ) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا ( کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق ) ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہہ دیا ۔
حدیث 2980 — صحيح مسلم 15:188
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ، بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ - يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ - وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ .
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہاJ ہمیں عمرا ن بن مسلم نے ابو رجاء سے روایت کی ، کہ عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہو ئی ۔ اور اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ، بعد ازیں نہ تو کو ئی آیت نازل ہو ئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فر ما یا حتی کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔)
حدیث 2981 — صحيح مسلم 15:189
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَقُلْ وَأَمَرَنَا بِهَا .
یحییٰ بن سعید نے ہمیں عمرا ن قصیر سے حدیث سنا ئی ( انھوں نے کہا : ) ہمیں ابو رجاء نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند ( مذکورہ بالاروایت ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ البتہ اس میں یہ کہا کہ ہم نے یہ ( حج میں تمتع ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ( یحییٰ بن سعید نے ) یہ نہیں کہا : آپ نے ہمیں اس کا حکم دیا ۔
حدیث 2982 — صحيح مسلم 15:190
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ - حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرے سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جا نور اپنے ساتھ چلا کر لا ئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغا ز فرمایا تو ( پہلے ) عمرے کا تلبیہ پکا را پھر حج کا تلبیہ پکا را اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرے سے تمتع کیا ۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لا ئے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے ۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : "" تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنھیں اس نے ( احرا م بندھ کر ) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پو را نہ کرے ۔ اور جو شخص قربا نی نہیں لا یا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جا ئے ( اور آٹھ ذوالحجہ کو ) پھر حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکا رے ( اور رمی کے بعد ) قر بانی کرے ۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دورا ن میں اور سات دن گھر لو ٹ کر روزے رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فر ما یا ۔ سب سے پہلے حجرا سود کا استلام کیا ۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگا ئے ۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابرا ہیم کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں ۔ پھر سلام پھیر ااور رخ بد لیا ۔ صفا پر تشریف لا ئے اور صفا مروہ کے ( درمیا ن ) ساتھ چکر لگا ئے ۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو ( اپنے لیے ) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرا م کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور ( طواف ) افاضہ فر ما یا ۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز ( اپنے لیے ) حلال کر لی جو احرام کی وجہ سے ) حرام ٹھہرائی تھی ۔ اور لوگوں میں سے جنھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگو ں کے ساتھ قربانی کے جا نور ہانک کر لے آئے تھے ۔ انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔
حدیث 2983 — صحيح مسلم 15:191
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں ( عروہ کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے حج کے ساتھ عمرے کے تمتع کے متعلق اور جو آپ کے ساتھ تھے ۔ ان کے تمتع کے متعلق اسی طرح خبر دی ۔ جس طرح سالم بن عبد اللہ نے مجھے عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا ، انھوں نے نافع سے روایت کی ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انھوں نے ( عمرے کے بعد ) احرا م کھول دیا ہے ۔ اور آپ نے اپنے عمرے ( آتے ہی طواف وسعی جو عمرے کے منسک کے برابر ہے ) کے بعد احرا م نہیں کھولا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند یا خطمی بوٹی سے ) چپکالیا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈا ل دیے ۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م نہیں کھول سکتا ۔
خالد بن مخلد نے مالک سے ، انھوں نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرا م نہیں کھولا ؟ ( آگے ) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے ۔
عبید اللہ نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے احرا م کھول دیا ہے اور آپ نے ( مناسک ) ادا ہو جا نے کے باوجود ) ابھی تک عمرے کا احرا م نہیں کھولا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند ( جیلی ) سے چپکا یا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں ۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ( اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) مالک کی ھدیث کے مانند ہے ( البتہ الفاظ یوں ہیں ) : " میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔