قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 3058 — صحيح مسلم 15:264
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، سَعِيدِ بْنِ الأَبْجَرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَصِفْهُ لِي ‏.‏ قَالَ قُلْتُ رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُمْ كَانُوا لاَ يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلاَ يُكْهَرُونَ ‏.‏
عبدالملک بن سعید بن ابجر نے ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ان کی صفت ( تمھیں کس طرح نظر آئی ) بیان کرو ۔ میں نے عرض کی : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر ( سوار ) دیکھا تھا ، اور آپ ( کو دیکھنے کےلئے ) لوگوں کا بہت ہجوم تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ( ہاں ) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ لوگوں کوآپ سے ( دورہٹانے کےلئے ) دھکے دیئے جاتے تھے نہ انھیں ڈانٹا جاتاتھا ۔
حدیث 3059 — صحيح مسلم 15:265
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ ‏.‏ قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً ‏.‏ فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاَثَةَ أَشْوَاطٍ وَيَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ ‏.‏
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ( عمرہ قضا کےلیے ) مکہ آئے تو انھیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کردیا تھا ۔ مشرکین نے کہا : کل تمھارے ہاں ایسے لوگ آرہے ہیں جنھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ اورانھیں اس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے ۔ اور وہ لوگ حطیم کے ساتھ ( لگ کر ) بیٹھ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے تین چکروں میں چھوٹے قدموں کی تیز ، مضبوط چال چلیں ، اور دونوں ( یمانی ) کونوں کےدرمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کوان کی مضبوطی نظرآجائے ۔ ( مسلمانوں کی مضبوط چال دیکھ کر ) مشرکوں نے کہا : یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمھارا خیال تھا کہ انھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انھیں پورے چکروں میں رمل نہ کرنے کاحکم دینے سے ، آپ کو محض اس شفقت نے روکا جو آپ ان پر فرماتے تھے ۔
حدیث 3060 — صحيح مسلم 15:266
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَمَلَ بِالْبَيْتِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ ‏.‏
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی اور بیت اللہ کے طواف میں رمل صرف مشرکین کواپنی ( قوم کی ) طاقت اور قوت دکھانے کے لیے کیا تھا ۔
حدیث 3061 — صحيح مسلم 15:267
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ‏.‏
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی کونوں کے علاوہ بیت اللہ ( کے کسی حصے ) کوچھوتے نہیں دیکھا ۔
حدیث 3062 — صحيح مسلم 15:268
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نےسالم سے ، انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اسود ( حجر اسود والے کونے ) اور اس کے ساتھ والے کونے کے علاوہ ، جو کہ بنو جمح کے گھروں کی جانب ہے ، بیت اللہ کے کسی اور کونے کو نہیں چھوتے تھے ۔
حدیث 3063 — صحيح مسلم 15:269
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَسْتَلِمُ إِلاَّ الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ
خالد بن حارث نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ۔ انھوں نےبتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اوررکن یمانی کے علاوہ کسی اور کونے کااستلام نہیں کرتے تھے ۔
حدیث 3064 — صحيح مسلم 15:270
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، الْقَطَّانِ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ - الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلاَ رَخَاءٍ ‏.‏
ہمیں یحییٰ نے عبیداللہ سے روایت بیا ن کی ، ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، فرمایا : میں نے مشکل ہویا آسانی ، اس وقت سے ان دونوں رکنوں ، رکن یمانی اورحجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا ، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کااستلام کرتے ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھوتے ) ہوئےدیکھا ۔
حدیث 3065 — صحيح مسلم 15:271
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ ‏.‏
عبیداللہ نے نافع سےروایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے پھر اپنا ہاتھ کوچوم لیتے ۔ انھوں نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ، اس وقت اسے ترک نہیں کیا ۔
حدیث 3066 — صحيح مسلم 15:272
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ، دِعَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ‏.‏
ابوطفیل بکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ دو یمانی کناروں ( رکن یمانی اورحجر اسود ) کے علاوہ کسی اور کنارے کو چھوتے ہوں ۔
حدیث 3067 — صحيح مسلم 15:273
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّحَدَّثَهُ قَالَ قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ ‏.‏ زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ ‏.‏
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے یونس اورعمرو نے خبر دی ، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن وہب نے عمروسےخبر دی ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی ، کہا : ( ایک مرتبہ ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں ( کبھی ) بوسہ نہ دیتا ۔ ہارون نے اپنی روایت میں ( کچھ ) اضافہ کیا ، عمرو نے کہا : مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔