وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ قَالَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
عطاء نے خبر دی ( کہا : ) مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار کیا ۔ ( پھر ) کہا : مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے ر ہے ۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔
حدیث 3090 — صحيح مسلم 15:296
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ . وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ
ابن جریج سے روایت ہے : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ( اس طرح ) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان ( اپنی انگلیوں سے ) کنکرپھینکتا ہے ۔
ابو حوص نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے جب ہم مزدلفہ میں تھے ۔ کہا : میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ، وہ اس مقام پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے مزدلفہ سے لو ٹتے وقت تلبیہ کہا : تو کہا گیا : کیا یہ اعرابی ( بدو ) ہیں؟ اس پر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمرا ہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے مزدلفہ سے لو ٹتے وقت تلبیہ کہا : تو کہا گیا : کیا یہ اعرابی ( بدو ) ہیں؟ اس پر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمرا ہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
زیادبگا ئی نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فر ما رہے تھے ۔ میں نے اس ہستی سے سنا ، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔ آپ اسی جگہ لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔ ( یہ کہہ کر ) انھوں ( عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے تلبیہ پکا را اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا ۔
ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفا ت گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کو ئی تکبیر کہنے والا ۔
حدیث 3096 — صحيح مسلم 15:301
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ
عمر بن حسین نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کو ئی تکبیر یں کہنے والا تھا اور کوئی لا اله الا الله کہنے والا تھا ۔ البتہ ہم تکبیر یں کہہ رہے تھے ۔ ( عبد اللہ بن ابی سلمہ نے ) کہا : میں نے کہا : اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پو چھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہو ئے دیکھا تھا ؟ ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنا ئی کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا : آپ اس ( عرفہ کے ) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے ( ذکر و عبادت کر رہے تھے ؟انھوں نے کہا : ہم میں سے تہلیل کہنے والا لا اله الا الله كہتا تو اس پر کو ئی اعترا ض نہیں کیا جا تا تھا ۔ اور تکبیریں کہنے والاکہتا تو اس پر بھی کو ئی تکبیر نہ کی جا تی تھی ۔)