ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " جس عورت نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کا والد اس کے ( نکاح کے ) بارے میں اجازت لے گا ، اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے ۔ " اور کبھی انہوں نے کہا : " اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ چھ برس کی عمر میں نکاح کیا اور جب میں نو برس کی تھی تو میرے ساتھ گھر بسایا ۔ کہا : ہم ( ہجرت کے بعد ) مدینہ آئے تو میں ایک مہینہ بخار میں مبتلا رہی ۔ ( اور میرے سر کے بال جھڑ گئے ، جب صحت یاب ہوئی تو ) پھر میرے بال ( اچھی طرح سے اگ آئے حتیٰ کہ ) گردن سے نیچے تک کی چٹیا بن گئی ۔ ( ان دنوں ایک روز میری والدہ ) ام رومان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئیں جبکہ میں جھولے پر ( جھول رہی ) تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں ، انہوں نے مجھے زور سے آواز دی ، میں ان کے پاس گئی ، مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے دروازے پر لاکھڑا کیا ، ( سانس پھولنے کی وجہ سے ) میرے منہ سے ھہ ھہ کی آواز نکل رہی تھی ، حتیٰ کہ جب میری سانس ( چڑھنے کی کیفیت ) چلی گئی تو وہ مجھے ایک گھر کے اندر لے آئیں تو ( غیر متوقع طور پر ) وہاں انصار کی عورتیں ( جمع ) تھیں ، وہ کہنے لگیں ، خیر وبرکت پر اور اچھے نصیب پر ( آئی ہو ۔ ) تو انہوں ( میری والدہ ) نے مجھے ان کے سپرد کر دیا ۔ انہوں نے میرا سر دھویا ، اور مجھے بنایا سنوارا ، پھر میں اس کے سوا کسی بات پر نہ چونکی کہ اچانک چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ۔ اور ان عورتوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا
ابو معاویہ اور عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت می انہوں نے کہا کہ رسۃل اللہ ﷺ نے میرے ساتھ نکاح کیا جب میں چھ سال کی تھی اور میرے ساتھ گھر بسایا جب میں نو سال کی تھی
زہری نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ سات سال کی تھیں ، اور گھر بسایا جب وہ نو سال کی تھیں اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر فوت ہوئے جب وہ اٹھارہ سال کی تھیں
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جبکہ وہ چھ برس کی تھیں اور ان کی رخصتی ہوئی جبکہ وہ نو برس کی تھیں اور آپ فوت ہوئے جبکہ وہ اٹھارہ برس کی تھیں
حدیث 3483 — صحيح مسلم 16:85
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي . قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ .
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن عروہ سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں میرے ساتھ نکاح کیا ، اور شوال ہی میں میرے ساتھ گھر بسایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کون سی بیوی آپ کے ہاں مجھ سے زیادہ خوش نصیب تھی؟ ( عروہ نے ) کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ اپنی ( رشتہ دار اور زیر کفالت ) عورتوں کی رخصتی شوال میں کریں ۔ ( جبکہ عربوں میں پرانا تصور یہ تھا کہ شوال میں نکاح اور رخصتی شادی کے لئے ٹھیک نہیں)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل ( خاندان کی بچیوں کا شوال میں شادی کرانے ) کا تذکرہ نہیں کیا ۔
حدیث 3485 — صحيح مسلم 16:87
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " .
سفیان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح ( طے ) کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔
حدیث 3486 — صحيح مسلم 16:88
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " . قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا . قَالَ " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا " . قَالَ عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ " . قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ .
مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا : میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔ " اس نے جواب دیا : میں نے اسے دیکھا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کتنے مہر پر تم نے اِس سے نکاح کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : چار اوقیہ پر ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " چار اوقیہ چاندی پر؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو! تمہیں دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ موجود نہیں ، البتہ جلد ہی ہم تمہیں ایک لشکر میں بھیج دیں گے تمہیں اس سے ( غنیمت کا حصہ ) مل جائے گا ۔ " کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی جانب ایک لشکر روانہ کیا ( تو ) اس آدمی کو بھی اس میں بھیج دیا
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری اور عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی ذات آپ کو ہبہ کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی ، آپ اپنی نظر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک لے گئے ۔ پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا ۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ کو اس ( کے ساتھ شادی ) کی ضرورت نہیں تو اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تمہارے پاس ( حق مہر میں دینے کے لیے ) کوئی چیز ہے؟ " اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! ( کچھ ) نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ ، دیکھو تمہیں کچھ ملتا ہے؟ " وہ گیا پھر واپس آیا اور عرض کی : نہیں ، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو ۔ " وہ گیا پھر واپس آیا ، اور عرض کی ، نہیں ، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے ، البتہ میری یہ تہبند ہے ۔ سہل نے کہا : اس کے پاس ( کندھے کی ) چادر بھی نہیں تھی ۔ اس میں سے آدھی ( بطور مہر ) اِس کے لیے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی ، اگر تم اسے پہنو گے تو اس ( کے جسم ) پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا ۔ " اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا ۔ اسے بیٹھے ہوئے لمبا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو گیا ( اور چل دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ لیا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بلا لیا گیا ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟ " ( تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ ) اس نے عرض کی : میرے پاس فلاں سورت اور فلاں سورت ہے ۔ اس نے وہ سورتیں شمار کیں ۔ تو آپ نے پوچھا : " تم انہیں زبانی پڑھتے ہو؟ " اس نے عرض کی ، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ، تمہیں جتنا قرآن یاد ہے اس کے عوض ( نکاح کے لیے ) تمہیں اس کا مالک ( خاوند ) بنا دیا گیا ہے ۔ " یہ ابن ابوحازم کی حدیث ہے ، یعقوب کی حدیث بھی الفاظ میں اسی کے قریب ہے