قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 3558 — صحيح مسلم 16:160
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ، قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
ابو احمد زبیری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مکہ کے قصہ گو سعید بن حسان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عروہ بن عیاض بن عدی بن خیار نوفلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ( آگے ) سفیان کی حدیث کے ہم معنی ( ہے)
حدیث 3559 — صحيح مسلم 16:161
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ ‏.‏ زَادَ إِسْحَاقُ قَالَ سُفْيَانُ لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، ( انہوں نے کہا ) ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عزل کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا تھا ۔ اسحاق نے اضافہ کیا : سفیان نے کہا : اگر یہ ایسی چیز ہوتی جس سے منع کیا جانا ( ضروری ) ہوتا تو قرآن ہمیں ( ضرور ) اس سے منع کرتا
حدیث 3560 — صحيح مسلم 16:162
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
معقل نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے
حدیث 3561 — صحيح مسلم 16:163
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَنْهَنَا ‏.‏
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے ۔ یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا
حدیث 3562 — صحيح مسلم 16:164
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ ‏"‏ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خُمَیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمٰن بن جبیر سے سنا وہ اپنے والد ( جبیر بن نفیر ) سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے دروازے پر کھڑی ایک پورے دِنوں کی حاملہ عورت ( لونڈی ) کے پاس سے گزرے ، آپ نے فرمایا : " شاید وہ ( اس کا مالک ) چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مجامعت کرے؟ " صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو اس کی قبر میں اس کے ساتھ جائے ۔ ایسا کام کرنے والا کیسے اس ( طرح کے بچے ) کو وارث بنائے گا ، جبکہ وہ ( وارث بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں ۔ وہ کیسے اس سے خدمت لے گا ( اسے غلام بنائے گا؟ ) جبکہ ( اس بچے کے پیٹ میں ہونے کے دوران میں اس کی ماں سے مباشرت کرنے کی بنا پر اس بچے/بچی کو غلام/کنیز بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں
حدیث 3563 — صحيح مسلم 16:165
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
یزید بن ہارون اور ابوداؤد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی
حدیث 3564 — صحيح مسلم 16:166
وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ وَأَمَّا خَلَفٌ فَقَالَ عَنْ جُذَامَةَ الأَسَدِيَّةِ ‏.‏ وَالصَّحِيحُ مَا قَالَهُ يَحْيَى بِالدَّالِ ‏.‏
جدامہ نے رسول اﷲ ﷺ سے سُنا کہ فرماتے تھے میں نے چاہا کہ غیلہ سے منع کردوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو ضرر نہیں ہوتا ۔ مسلم نے فرمایا کہ جدامہ بے نقطہ کے دل سے صحیح ہے ۔
حدیث 3565 — صحيح مسلم 16:167
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، أُخْتِ عُكَّاشَةَ قَالَتْ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلاَدَهُمْ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الْمُقْرِئِ وَهْىَ ‏{‏ وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ‏}‏
عبیداللہ بن سعید اور محمد بن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں مُقری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابواسود نے عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : "" میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ ( دودھ پلانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے ) سے منع کر دوں ، پھر میں نے روم اور فارس ( کے لوگوں کے بارے ) میں دیکھا ( سوچا ، غور کیا ) تو وہ اپنے بچوں ( کی دودھ پلانے والی ماؤں ) سے غیلہ کرتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتا ۔ "" پھر صحابہ نے آپ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ مخفی ( واد ) زندہ درگور کرنا ہے ۔ "" عبیداللہ نے مُقری سے روایت کردہ اپنی حدیث میں اضافہ کیا : اور یہی ہے : "" زندہ درگور کی گئی سے ( قیامت کے دن ) پوچھا جائے گا
حدیث 3566 — صحيح مسلم 16:168
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْعَزْلِ وَالْغِيلَةِ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْغِيَالِ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن ایوب نے ہمیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل قرشی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ ۔ ۔ آگے عزل اور غیلہ کے بارے میں سعید بن ابوایوب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔ لیکن انہوں نے ( غیلہ کے بجائے ) غِیال کہا ( معنی وہی ہیں)
حدیث 3567 — صحيح مسلم 16:169
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَ وَالِدَهُ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلاَدِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلاَ مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ وَلاَ الرُّومَ ‏"‏
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے ۔ ۔ الفاظ ابن نمیر کے ہیں ۔ ۔ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن یزید مقبری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حیوہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عیاش بن عباس نے حدیث سنائی ، انہیں ابونضر نے عامر بن سعد سے حدیث بیان کی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : می اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ "" اس نے جواب دیا : میں اس کے بچے یا اس کے بچوں پر ( جنہیں وہ دودھ پلا رہی ہوتی ہے ) شفقت کرتا ہوں ( کہ انہیں کوئی نقصان نہ ہو ۔ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو فارس اور روم ( کے بچوں ) کو نقصان دیتا ۔ "" زہیر نے اپنی روایت میں کہا : "" اگر یہ ( عزل ) اس وجہ سے ہے تو ( اس کی ضرورت ) نہیں ، اس ( عمل ) نے فارس اور روم ( کے بچوں ) کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔