۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن الله أكبر ، الله أكبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک الله أكبر الله أكبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) الله أكبر الله أكبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
۔ محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید کی دو الگ الگ سندوں سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘ ‘ وأن محمدا عبده ورسوله ’’اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘ رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا ’’ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ۔ ‘ ‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا : جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : وأنا أشهد اور قتیبہ نے وأنا کا لفظ بیان نہیں ۔
حدیث 852 — صحيح مسلم #852
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ ( بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے اور انہوں نے اپنے چچا ( عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا ۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : قیامت کے دن مؤذن ، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے ۔ ‘ ‘
حدیث 853 — صحيح مسلم #853
سفیان نے طلحہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے ( اپنے چچا ) عیسیٰ بن طلحہ سے روایت کی ، کہا : میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : .......... ( آگے ) سابقہ روایت کی مانند ہے ۔
۔ جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار ( اذان ) سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شیطان جب نماز کے لیے پکار ( کی آواز ) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور ( نمازیوں کے دلوں میں ) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے ، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے ، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور ( لوگوں کے دلوں میں ) وسوسہ ڈالتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 857 — صحيح مسلم 4:20
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ " .
خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح السمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا جاتا ہے ۔ ‘ ‘