قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 888 — صحيح مسلم 4:50
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ ‏"‏ أَوْ ‏"‏ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ‏"‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا ، وہ حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی شروع کر دی ۔ جب آپﷺ نے اسلام پھیرا تو فرمایا : ’’تم میں سے کس نے پڑھا ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
حدیث 889 — صحيح مسلم 4:51
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَقَالَ ‏ "‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏
۔ قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
حدیث 890 — صحيح مسلم 4:52
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ كِلاَهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ ‏{‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‏}‏ ‏.‏
ہم سے محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ ، ابو بکر ، عمر اور عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ نماز پڑھی ، میں نے ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیں سنا ۔
حدیث 891 — صحيح مسلم 4:53
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ ‏.‏
محمد بن ( جعفر کے بجائے ) ابو داؤد نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی اور یہ اضافہ کیا کہ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ، کہا : ہاں ، ہم نے سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔
حدیث 892 — صحيح مسلم 4:54
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ ‏.‏ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِـ ‏{‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ لاَ يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ وَلاَ فِي آخِرِهَا ‏.‏
وزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے : سبحانك اللهم! وبحمدك ، تبارك اسمك وتعالى جدك ، ولا إله غيرك ’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت وشان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ‘ ‘ ( نیز اوزاعی ہی کی ) قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ( اپنی ) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان ( اوزاعی ) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں نے ( انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے قتادہ کو حدیث سنائی ، کہا : میں نے نبیﷺ ، ابو بکر ، عمر اورعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، وہ ( نماز کا ) آغاز الحمد لله رب العالمين سے کرتے تھے ، وہ بسم الله الرحمن الرحيم ( بلند آواز سے ) نہیں کہتے تھے ، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی ( دوسری سورت کے آغاز پر)
حدیث 893 — صحيح مسلم 4:55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَذْكُرُ ذَلِكَ ‏.‏
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سنا ، وہ یہی ( سابقہ ) حدیث بیان کرتے تھے ۔
حدیث 894 — صحيح مسلم 4:56
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آنِفًا سُورَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏{‏ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ فَيَقُولُ مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ( الفاظ انہی کے ہیں ) علی بن مسہر سے روایت کی ، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا : ’’ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے پڑھا : ﴿ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿<http : //tanzil.net/tanzil.net>﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿<http : //tanzil.net/tanzil.net>﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴿<http : //tanzil.net/tanzil.net>﴾﴾ ’’بلاشبہ ہم آپ کو کوثر عطا کی ۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں ، یقیناً آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے کہا : ’’ کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں ۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا : اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے ۔ تو وہ فرمائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں ۔ ‘ ‘ ( علی ) ابن حجر نے اپنی حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور ( أحدثوا بعدك کی جگہ ) أحدث بعدك ’’اس نے نئی بات نکالی ‘ ‘ کہا ۔
حدیث 895 — صحيح مسلم 4:57
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِغْفَاءَةً ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ ‏"‏ ‏.‏
ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، ( آگے ) جس طرح ابن مسہر کی حدیث ہے ، البتہ انہوں ( ابن فضیل ) نے یہ الفاظ کہے : ’’ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور اس پر ایک حوض ہے ۔ ‘ ‘ اور یہ نہیں کہا : ’’ اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 896 — صحيح مسلم 4:58
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى، لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ - وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ - ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ ‏ "‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ ‏.‏
ہمام نے کہا : ہمیں محمد بن جحادہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عبد الجبار بن وائل نے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل اور ان کے آزادہ کردہ غلام سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان کے والد حضرت وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا ، آپ نے نماز میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، تکبیر کہی ( ہمام نے بیان کیا : کانوں کے برابر بلند کیے ) پھر اپنا کپڑا اوڑھ لیا ( دونوں ہاتھ کپڑے کے اندر لے گئے ) ، پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر انہیں بلند کیا ، پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا ، پھر جب سمع الله لمن حمده کہا تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔
حدیث 897 — صحيح مسلم 4:59
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلاَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ ‏.‏ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
۔ جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے : اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ ( بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو ۔ ) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے ، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں ( بھی اسی کےلیے ہیں ) ، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ جب کوئی شخص یہ ( دعائیہ ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے ۔ ( پھر کہے : ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں ، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔