قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 938 — صحيح مسلم 4:100
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ ‏.‏
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ۔
حدیث 939 — صحيح مسلم 4:101
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ( حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔
حدیث 940 — صحيح مسلم 4:102
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتِي قَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لاَ يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا بِي إِلاَّ كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ ‏"‏ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏
۔ ( عبید اللہ بن عبد اللہ کے بجائے ) حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ ( بیماری کے دوران میں ) میرے گھر تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ وہ کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر نرم دل انسان ہیں ، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بجائے کسی اور کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم! میرے دل میں اس چیز کو ناپسند کرنے کی اس کے علاوہ اور کوئی بات نہ تھی کہ جو شخص سب سے پہلے آپ کی جگہ کھڑا ہو گا لوگ اسے برا سمجھیں گے ، اس لیے میں نے دو یا تین دفعہ اپنی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں ، بلاشبہ تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتیں ہی ہو ۔ ‘ ‘
حدیث 941 — صحيح مسلم 4:103
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ‏.‏ فَقَالَتْ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ‏.‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ - قَالَتْ - فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ - قَالَتْ - فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُمْ مَكَانَكَ ‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ - قَالَتْ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا کر رہے تھے ۔
حدیث 942 — صحيح مسلم 4:104
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ ‏.‏
۔ علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ نے وفات پائی ۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ انہیں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا ۔ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے ۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پہلو میں تھے اور لوگوں کو ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے ۔
حدیث 943 — صحيح مسلم 4:105
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ ‏.‏ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
ایک اور سند کے ساتھ ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔ عروہ نے کہا : پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ باہر تشریف لائے ، اس وقت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کی امت کر رہے تھے ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو ۔ رسول اللہﷺ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
حدیث 944 — صحيح مسلم 4:106
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ - وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ - كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ‏.‏ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا - قَالَ - فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلاَةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَارِجٌ لِلصَّلاَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْخَى السِّتْرَ - قَالَ - فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ‏.‏
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی بیماری دوران ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہﷺ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ نبیﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہﷺ وفات پا گئے
حدیث 945 — صحيح مسلم 4:107
وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ کی طرف میں نے جو آخری نظر ڈالی ( وہ اس طرح تھی کہ ) سوموار کے دن آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا .... جس طرح اوپر واقعہ ( بیان ہوا ) ہے ۔ ( امام مسلم فرماتے ہیں : ) صالح کی حدیث کامل اور سیر حاصل ہے ۔
حدیث 946 — صحيح مسلم 4:108
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا ‏.‏
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا .... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق ۔
حدیث 947 — صحيح مسلم 4:109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَحَ لَنَا - قَالَ - فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ ‏.‏
۔ عبد العزیز نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ نبیﷺ ( بیماری کے ایام میں ) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے ، ( انہی دنوں میں سے ) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ ( کمرے کے ) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا ، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے ، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے ، جو ہمارے سامنے تھا ، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو ۔ وہ کہتے ہیں : پھر آپﷺ نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا ، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔