قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1068 — صحيح مسلم 4:230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے عبیدبن حسن سے انہوں نے عبد اللہ بن اوفیٰ سے روایت ےکی ہے انہوں نے کہا رسو ل اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کیا کرتے تھے’’اے اللہ ہمارے رب تیر ی ہی تعریف ہےآسمان اور زمین تک اور اس علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک ۔
حدیث 1069 — صحيح مسلم 4:231
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ نبی اکرمﷺ سے بیان کر رہے تھے کہ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1070 — صحيح مسلم 4:232
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، قَالَ وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ مُعَاذٍ ‏"‏ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّرَنِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ ‏"‏ مِنَ الدَّنَسِ ‏"‏ ‏.‏
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ معاذ کی روایت میں ( من الوسخ کے بجائے ) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں ( تینوں لفظوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔)
حدیث 1071 — صحيح مسلم 4:233
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏ "‏ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ثنا اورعظمت کے حق دار! ( یہی ) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں ۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سےتو محروم کر دے ، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1072 — صحيح مسلم 4:234
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏ ‏.‏
۔ ہشیم نے بشیر نے بیان کیا : ہمیں ہشام بن حسان نے قیس بن سعد سے خبر دی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے اللہ ، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے آسمان اور زمین بھر اور ان دونوں کے درمیان کی وسعت بھر اور ان کی بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے تعریف اور بزرگی کے سزاوار! جو توعنایت فرمائے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1073 — صحيح مسلم 4:235
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْلِهِ ‏ "‏ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
حفص نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبیﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی : ’’اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وعست بھر ۔ ‘ انہوں ( حفص ) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حدیث 1074 — صحيح مسلم 4:236
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ ‏ "‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلاَ وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن منصور ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دع اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔ ‘ ‘ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث یبان کرتے ہوئے ( ’’مجھے سلیمان نے خبر دی ‘ ‘ کے بجائے ) سلیمان سے روایت ہے ، کہا ۔ ‘ ‘
حدیث 1075 — صحيح مسلم 4:237
قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
۔ اسماعیل بن جعفر نے سلیمان سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے پردہ اٹھایا ، اس مرض کے عالم میں جس میں آپ کا انتقال ہوا ، آپ کا سر پٹی سے بندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ‘ ‘ تین بار ( یہ الفاظ کہے ، پھر فرمایا : ) ’’نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو کوئی نیک انسان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( دوسرے کو ) دکھائے جائیں گے ... ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل نے سفیان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حدیث 1076 — صحيح مسلم 4:238
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ‏.‏
۔ ابن شہاب زہری نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔
حدیث 1077 — صحيح مسلم 4:239
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ ‏.‏
ولید بن کثیر سے روایت ہے کہ مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے رسول اللہﷺ نے ، جب میں رکوع یا سجدے میں ہوں ، قرآن پڑھنے سے روکا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔