وہیب نے عبد اللہ بن طاؤس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ( اپنے والد ) طاؤس سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے سات ہڈیوں : پیشانی ، اور ( ساتھ ہی ) آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا ، دونوں ہاتھوں ، دونوں ٹانگوں ( گھٹنوں ) اور دونوں پاؤں کے کناروں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم ( نماز پڑھتے ہوئے ) کپڑوں اور بالوں کو نہ اڑسیں ۔ ‘ ‘
ابن جریح نے عبد اللہ بن طاؤس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں ، بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کروں ، ( سجدہ ) پیشانی اور ناک ، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر ( کروں ۔ ) ‘ ‘
۔ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اطراف ( کنارے یا اعضاء ) اس کا چہرہ ، اس کی دونوں ہتھیلیاں ، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبد اللہ بن حارث ( بن نوفل رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب ) کو نماز پڑھتے دیکھا ، ان کے سر پر پیچھے سے بالوں کو جوڑا بنا ہوا تھا ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اس کو کھولنے لگے ، جب ابن حارث نے سلام پھیرا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میرے سر کے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے ( میرے بال کیوں کھولے؟ ) انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’اس طرح ( جوڑا باندھ کر ) نماز پڑھنے والے کی مثال اس انسان کی طرح ہے جو اس حال میں نماز پڑھتا ہے کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 1102 — صحيح مسلم 4:264
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلاَ يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " .
وکیع نے شعبہ سے ، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور کوئی شخص اس طرح اپنے بازور ( زمین پر ) نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے ۔ ‘ ‘
محمد بن جعفر اور خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے ۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے : ’’کوئی شخص تکلف کر کے اپنے بازو اس طرح نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1104 — صحيح مسلم 4:266
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ إِيَادٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ " .
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیاں ( زمین پر ) رکھو اور اپنی کہنیاں اوپر اٹھاؤ
بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن ملک سے ، جو ابن بحینہ رضی اللہ عنہ ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح کھول دیتے ( اپنے پہلوؤں سے الگ کر لیتے تھے ) یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی ۔
حدیث 1106 — صحيح مسلم 4:268
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ . وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ يَدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى إِنِّي لأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ .
عمرو بن حارث اور لیث بن سعد دونوں نے جعفر بن ربیعہ سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ حدیث ) بیان کی ۔ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ جب سجدہ فرماتے تو سجدے میں اپنے بازو ( اس طرح ) پھیلا لیتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی ۔ اور لیث کی روایت میں ہے : رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ بغلوں سے جدا ر کھتے حتیٰ کہ میں آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا ۔
سفیان بن عیینہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم سے ، انہوں نے اپنے چچا یزید بن اصم سے ، انہوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہﷺ سجدہ کرتے توبکری کا بچہ اگر آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا توگزر سکتا تھا ۔